حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 287 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 287

287 بھی نکل آئی۔پس اب قیامت تک کوئی دعوی نہیں کر سکتا کہ میں مسیح موعود ہوں کیونکہ اب مسیح موعود کی پیدائش اور اس کے ظہور کا وقت گذر گیا۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 252 حاشیہ) ہدایت اور ضلالت کے ہزار سالہ ادوار میں حضرت اقدس کا دور ہدایت ساتواں ہزار ہے جیسا کہ سورۃ والعصر میں یعنی اس کے حروف میں ابجد کے لحاظ سے قرآن شریف میں اشارہ فرما دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں جب وہ سورۃ نازل ہوئی تب آدم کے زمانے پر اسی قدر مدت گذر چکی تھی جو سورۃ موصوفہ کے عددوں سے ظاہر ہے۔اس حساب سے انسانی نوع کی عمر میں سے اب اس زمانہ میں چھ ہزار برس گزر چکے ہیں اور ایک ہزار برس باقی ہیں۔قرآن شریف میں بلکہ اکثر پہلی کتابوں میں بھی یہ نوشتہ موجود ہے کہ وہ آخری مرسل جو آدم کی صورت پر آئے گا اور مسیح کے نام سے پکارا جائے گا ضرور ہے کہ وہ چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا ہوا یہ تمام نشان ایسے ہیں کہ تدبر کرنے والے کے لئے کافی ہیں اور ان سات ہزار برس کی قرآن شریف اور دوسری خدا کی کتابوں کے رو سے تقسیم یہ ہے کہ پہلا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا زمانہ ہے اور دوسرا ہزار شیطان کے تسلط کا زمانہ ہے اور پھر تیسرا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا۔اور چوتھا ہزار شیطان کے تسلط کا اور پھر پانچواں ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا۔یہی وہ ہزار ہے جس میں ہمارے سید و مولیٰ ختمی پناہ حضرت محمد ﷺ دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے اور شیطان قید کیا گیا اور پھر چھٹا ہزار شیطان کے کھلنے اور مسلط ہونے کا زمانہ ہے جو قرون ثلاثہ کے بعد شروع ہوتا اور چودھویں صدی کے سر پر ختم ہو جاتا ہے اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا اور ہر ایک خیر و برکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور توحید اور خدا پرستی اور ہر ایک قسم کی نیکی اور ہدایت کا زمانہ ہے۔اب ہم ساتویں ہزار کے سر پر ہیں۔اس کے بعد کسی دوسرے مسیح کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ زمانے سات ہی ہیں جو نیکی اور بدی میں تقسیم کئے گئے ہیں۔اس تقسیم کو تمام انبیاء نے بیان کیا ہے کسی نے اجمال کے طور پر اور کسی نے مفصل کے طور پر اور یہ تفصیل قرآن شریف میں موجود ہے جس سے مسیح موعود کی نسبت قرآن شریف میں سے صاف طور پر پیشگوئی نکلتی ہے۔لیکچر لاھور رخ جلد 20 صفحہ 185 تا 186 )