حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 269 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 269

269 ساقی من هست آں جاں پرورے ہر زمان مستم کند از ساغری شخص تو میرا ساقی وہی روح پرور ہے جو ہمیشہ جامِ شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے محو روئے او شد است ایں روئے من ہوئے او آید زبام و کوئے من یہ میرا چہرہ اُس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اُسی کی خوشبو آرہی ہے بسکه من در عشق او هستم نہاں من همانم من همانم از بسکہ میں اُس کے عشق میں غائب ہوں میں وہی ہوں میں وہی ہوں میں وہی ہوں جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عیاں شد آں ذکا! میری روح اُس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریباں سے وہی سورج نکل آیا ہے احمد اندر جان احمد شد 삼성 من ہماں اسم من گردید آن اسم وحید احمد کی جان کے اندراحمد ظاہر ہو گیا اس لئے میرا وہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے ( در شین فارسی مترجم صفحه 228) (سراج منیر۔۔خ۔جلد 12 صفحہ 97-96) رجل فارسی اور مسیح موعود ایک ہی شخص کے نام ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی آنحضرت کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔یہ تو ظاہر ہے اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں اور اس سے تعلیم اور تربیت پاویں۔پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں اک نبی ہوگا کہ وہ آنحضرت ﷺ کا بروز ہو گا اس لئے اس کے اصحاب آنحضرت ﷺ کے اصحاب کہلائیں گے اور جس طرح صحابہ نے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینی خدامیں ادا کی تھیں وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے۔بہر حال یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول اللہ رکھا جائے جو آنحضرت ﷺ کے بعد پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو نہیں دیکھا۔آیت مدوحہ بالا میں یہ تو نہیں فرمایاوَ اخَرِينَ مِنَ الْأُمَّةِ بلكہ يہ فرمایا وَاخَرِينَ مِنْهُمُ اور ہر ایک جانتا ہے کہ منھم کی ضمیر اصحاب کی طرف راجع ہے۔لہذا وہی فرقہ مِنْهُمُ میں داخل ہو سکتا ہے جس میں ایسا رسول موجود ہو کہ جو آنحضرت ﷺ کا بروز ہے۔(حقیقۃ الوحی رخ جلد 22 صفحہ 502 تا 501) یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺے نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اور انبیاء کو اپنے بروز پر