حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 231
231 انکار مرسلین کی سنت کے اعتبار سے سِحُرٌ مُّفْتَرَى وَّمَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ) (القصص: 37) ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ جب ان کو وہ اصل اسلام جو آنحضرت ا لے کر آئے تھے پیش کیا جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اسی طرح مانتے آئے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ کیا اتنی بات کہہ کر یہ اپنے آپ کو بری کر سکتے ہیں؟ نہیں بلکہ قرآن شریف کے موافق اور خدا تعالیٰ کی سُنت قدیم کے مطابق اس قول سے بھی ایک حجت ان پر پوری ہوتی ہے۔جب کبھی کوئی خدا کا مامور اور مرسل آیا ہے تو مخالفوں نے اس کی تعلیم کوسن کر یہی کہا ہے مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي أَبَائِنَا الْأَوَّلِين تبتل الی اللہ کے اعتبار سے ( ملفوظات جلد دوم صفحه 189 ) وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (المزمل: 9) میرے نزدیک رویا میں یہ بتانا کہ تجل کے معنے مجھ سے دریافت کئے جائیں اس سے مراد ہے کہ جو میرا مذ ہب اس بارہ میں ہے وہ اختیار کیا جاوے۔منطقیوں یا نحویوں کی طرح معنے کرنا نہیں ہوتا بلکہ حال کے موافق معنے کرنے چاہئیں۔ہمارے نزدیک اُس وقت کسی کو مستقبل کہیں گے جب وہ عملی طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام اور رضا کو دنیا اور اس کی متعلقات و مکروہات پر مقدم کرے۔کوئی رسم و عادت کوئی قومی اصول اس کے رہزن نہ ہو سکے نہ نفس رہزن ہو سکے نہ بھائی نہ جو رو نہ بیٹا نہ باپ۔غرض کوئی شے اور کوئی متنفس اس کو خدا تعالیٰ کے احکام اور رضا کے مقابلہ میں اپنے اثر کے نیچے نہ لا سکے اور وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ایسا اپنے آپ کھو دے کہ اس پر فنائے اتم طاری ہو جاوے اور اسکی ساری خواہشوں اور ارادوں پر ایک موت وارد ہو کر خدا ہی خدارہ جاوے۔دنیا کے تعلقات بسا اوقات خطرناک رہزن ہو جاتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کی رہزن حضرت تو ہو گئی۔پس تبتل تام کی صورت میں یہ ضروری امر ہے کہ ایک سکر اور فنا انسان پر وارد ہو مگر نہ ایسی کہ وہ اسے خدا سے گم کرے بلکہ خدا میں گم کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحه 552) مرسلین باری تعالیٰ کی فتح کے اعتبار سے كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزُه (المجادله:22) میں خدا سے یقینی علم پا کر کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مولوی اور ان کے سجادہ نشین اور ان کے ملہم اکٹھے ہو کر الہامی امور میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہیں تو خدا ان سب کے مقابل پر میری فتح کرے گا کیونکہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔پس ضرور ہے کہ بموجب آیت کریمہ كَتَبَ اللَّهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی میری فتح ہو۔انجام آتھم۔رخ جلد 11 صفحہ 341-342)