حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 232
232 خدا نے ابتداء سے لکھ چھوڑا ہے اور اپنا قانون اور اپنی سنت قرار دے دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پاکر اور اُسی میں ہو کر اور اُسی کا مظہر بن کر آیا ہوں اس لئے میں کہتا ہوں کہ جیسا کہ قدیم سے یعنی آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرت ﷺ تک ہمیشہ مفہوم اس آیت کا سچا نکلتا آیا ہے اور ایسا ہی اب بھی میرے حق میں سچا نکلے گا۔نزول مسیح - ر- خ جلد 18 صفحہ 380-381) حضرت اقدس کی رسالت کی مشکلات کے اعتبار سے فَاجَآءَ هَا الْمَخَاضُ إِلى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَلَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسُيًا مَّنْسِيَّان (مريم :24) میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الہی اور مسیح موعود ہونے کا دعوی تھا۔اسی کی نسبت میری گھبراہٹ ظاہر کرنے کے لئے یہ الہام ہوا تھا فَجَاءَ هَا الْمَخَاصُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يُلَيْتَنِي مِثْ قَبْلَ هَذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا - مخاض سے مراد اس جگہ وہ امور ہیں جن سے خوفناک نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اور جذع النَّخْلَةِ سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کی اولا دیگر صرف نام کے مسلمان ہیں۔بامحاورہ ترجمہ یہ ہے کہ دردانگیز دعوت جس کا نتیجہ قوم کا جانی دشمن ہو جانا تھا اس مامور کو قوم کے لوگوں کی طرف لائی جو کھجور کی خشک شاخ یا جڑ کی مانند ہیں تب اس نے خوف کھا کر کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مرجاتا اور بھولا بسرا ہو جاتا۔وَ مَا كَانَ جَوْرُ الْخَلْقِ مُسْتَحْدَثًا لَّنَا فَإِنَّ أَذَاهُمْ سُنَّةٌ لَّا تَغَيَّرُ (براہین احمدیہ۔رخ جلد 21 صفحہ 68-69 حاشیہ ) إِذَا قِيْلَ إِنَّكَ مُرْسَلٌ خِلْتُ أَنَّنِيْ دُعِيْتُ إِلَى أَمْرٍ عَلَى الْخَلْقِ يَعْسِرُ اور مخلوق کا ظلم ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی کیونکہ ان کا دکھ دینا ایک غیر متبدل سنت ہے۔۲۔جب مجھے کہا گیا کہ تو مرسل ہے تو میں نے خیال کیا کہ میں ایک ایسے امر کی طرف بلایا گیا ہوں جو مخلوق پر دشوار (خطبہ الہامیہ رخ جلد 16 صفحہ 305) ( القصائد الاحمدیہ صفحہ 358) گذرے گا۔