حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 197
197 ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْارْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرُهَا ، قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ فَقَضْهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِى كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا ، وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ ، وَحِفْظًا ، ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (حم السجدة: 1312) اگر چہ جمعہ کا دن سعد اکبر ہے لیکن اس کے عصر کے وقت کی گھڑی ہر ایک اس کی گھڑی سے سعادت اور برکت میں سبقت لے گئی ہے سو آدم جمعہ کی اخیر گھڑی میں بنایا گیا یعنی عصر کے وقت پیدا کیا گیا۔اسی وجہ سے احادیث میں ترغیب دی گئی ہے کہ جمعہ کی عصر اور مغرب کے درمیان بہت دعا کرو کہ اس میں ایک گھڑی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے یہ وہی گھڑی ہے جس کی فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی۔اس گھڑی میں جو پیدا ہو وہ آسمان پر آدم کہلاتا ہے اور ایک بڑے سلسلہ کی اس سے بنیاد پڑتی ہے سو آدم اسی گھڑی میں پیدا کیا گیا۔اس لئے آدم ثانی یعنی اس عاجز کو یہی گھڑی عطا کی گئی۔اسی کی طرف براہین احمدیہ کے اس الہام میں اشارہ ہے کہ يَنْقَطِعُ ابَاؤُكَ وَيُبْدَءُ مِنْكَ تحفہ گولڑویہ - - خ- جلد 17 صفحہ 281 تا280 حاشیہ) حضرت اقدس آدم کی طرح سے تو ام پیدا ہوئے اہل اسلام کے اہل کشف نے مسیح موعود کو جو آخری خلیفہ اور خاتم الخلفاء ہے صرف اس بات میں ہی آدم سے مشابہ قرار نہیں دیا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا ہوا اور مسیح موعود چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہوگا بلکہ اس بات میں بھی مشابہ قرار دیا ہے کہ آدم کی طرح وہ بھی جمعہ کے دن پیدا ہوگا اور اس کی پیدائش بھی تو ام کے طور پر ہوگی یعنی جیسا کہ آدم تو ام کے طور پر پیدا ہوا تھا۔پہلے آدم اور بعد میں حوا ایسا ہی مسیح موعود بھی تو ام کے طور پر پیدا ہوگا سو الْحَمْدُ لِلهِ وَالمِنَّہ کہ متصوفین کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں۔( حقیقت الوحی - ر-خ- جلد 22 صفحہ 209)