حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 196
196 محدث نبی کا مثیل ہوکر وہی نام پاتا ہے وَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوْا أَنْفُسَهُمْ جَاءُ وَكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِيمًا (النساء: 65) یعنی ہر یک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو ہاں محدث جو مرسلین میں سے ہے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بکلی تابع شریعت رسول اللہ اور مشکوۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ خدائے تعالیٰ نبیوں سا معاملہ اس سے کرتا ہے اور محدث کا وجود انبیا اور امم میں بطور برزخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ اگر چہ کامل طور پر امتی ہے مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے۔اور محدث کے لئے ضرور ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدائے تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔(ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 407) آدم ثانی ہونے کے اعتبار سے وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلِئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيْفَةٌ قَالُوْا أَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيْهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ۔(البقره: 31) ( ترجمہ ) اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ انہوں نے کہا کیا تو بناوے گا اس میں جو فساد کرے گا اس میں اور بہائے گا خون اور ہم تسبیح کرتے ہیں ساتھ تیری حمد کے اور ہم تقدیس کرتے ہیں تیرے لیے فرمایا یقینا میں خوب جانتا ہوں جو نہیں تم جانتے۔حضرت کی پیدائش جمعہ کے دن اور عصر کے وقت ہوئی غرض وجود آدم ثانی بھی جامع جلال و جمال ہے اور اسی وجہ سے آخر ہزار ششم میں پیدا کیا گیا اور ہزار ششم کے حساب سے دنیا کے دنوں کا یہ جمعہ ہے اور جمعہ میں سے یہ عصر کا وقت ہے جس میں یہ آدم پیدا ہوا اور سورۃ فاتحہ میں اس مقام کے متعلق ایک لطیف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ چونکہ سورۃ فاتحہ ایک ایسی سورت ہے جس میں مہداء اور معاد کا ذکر ہے یعنی خدا کی ربوبیت سے لیکر یوم الدین تک سلسلہ صفات الہیہ کو پہنچایا ہے۔اسی مناسبت کے لحاظ سے حکیم ازلی نے اس سورت کو سات آتیوں پر تقسیم کیا ہے تا دنیا کی عمر میں سات ہزار کی طرف اشارہ ہو اور چھٹی آیت اس سورت کی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھٹے ہزار کی تاریکی آسمانی ہدایت کو چاہے گی اور انسانی سلیم فطرتیں خدا کی جناب سے ایک ہادی کو طلب کریں گی یعنی مسیح موعود کو اور ضالین پر اس سورت کو ختم کیا ہے یعنی ساتویں آیت پر جو صَالِيْنَ کے لفظ پر ختم ہوتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضالین پر قیامت آئے گی۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 284، حاشیہ)