حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 181 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 181

181 حضرت اقدس کا ذکر قرآن میں غیر المغضوب علیھم کے اعتبار سے خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں یہ سنت اور عادت مستمرہ ہے کہ جب وہ ایک گروہ کو کسی کام سے منع کرتا ہے یا اس کام سے بچنے کے لئے دعا سکھلاتا ہے تو اس کا اس سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ بعض ان میں سے ضرور اس جرم کا ارتکاب کریں گے لہذا اس اصول کے رو سے جو خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں پایا جاتا ہے صاف سمجھ آتا ہے جو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا سکھلانے سے یہ مطلب تھا کہ ایک فرقہ مسلمانوں میں سے پورے طور پر یہودیوں کی پیروی کرکے گا اور خدا کے مسیح کی تکفیر کر کے اور اس کی نسبت قتل کا فتویٰ لکھ کر اللہ تعالیٰ کو غضب میں لائے گا اور یہودیوں کی طرح مغضوب علیہم کا خطاب پائے گا۔یہ ایسی صاف پیشگوئی ہے کہ جب تک انسان عمد ا بے ایمانی پر کمر بستہ نہ ہو اس سے انکار نہیں کر سکتا اور صرف قرآن نے ہی ایسے لوگوں کو یہودی نہیں بنایا بلکہ حدیث بھی یہی خطاب ان کو دے رہی ہے اور صاف بتلا رہی ہے کہ یہودیوں کی طرح اس امت کے علماء بھی مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگائیں گے اور مسیح موعود کے سخت دشمن اس زمانہ کے مولوی ہو نگے کیونکہ اس سے ان کی عالمانہ عزتیں جاتی رہیں گی اور لوگوں کے رجوع میں فرق آجائے گا اور یہ حدیثیں اسلام میں بہت مشہور ہیں یہاں تک کہ فتوحات مکی میں بھی اس کا ذکر ہے کہ مسیح موعود جب نازل ہوگا تو اس کی یہی عزت کی جائے گی کہ اس کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے گا اور ایک مولوی صاحب اٹھیں گے اور کہیں گے إِنَّ هذا الرَّجُلَ غَيَّرَ دِينَنَا یعنی یہ شخص کیسا مسیح موعود ہے اس شخص نے تو ہمارے دین کو بگاڑ دیا یعنی یہ ہماری حدیثوں کے اعتقاد کو نہیں مانتا اور ہمارے پرانے عقیدوں کی مخالفت کرتا ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 328 329) غير المغضوب علیھم ایک دعا ہے وَإِنَّ الْفَاتِحَةَ كَفَتْ لِسَعِيدٍ يَطْلُبُ الْحَقَّ وَلَا يَمُرُّ عَلَيْنَا كَالَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُونَ فَإِنَّ اللَّهَ ذَكَرَ فِيهِ فِرَقًا تَلْنا خَلَوْا مِن قَبْلُ وَهُمُ الْمُنْعَمُ عَلَيْهِمْ وَالْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ وَالضّالُونَ ثُمَّ جَعَلَ هَذِهِ الأمَّةَ فِرْقَةً رَّابِعَةً وَأَوْمَا الْفَاتِحَةُ إِلى أَنَّهُمْ وَرِثُوا تِلْكَ التَّلَثَةَ إِمَّا مِنَ الْمُنْعَمِ عَلَيْهِمْ أَوْ مِنَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ أَوْ مِنَ الَّذِينَ يَضِلُونَ وَيَتَنَصَّرُونَ وَأَمَرَ أَنْ يَسْئَلَ الْمُسْلِمُونَ رَبَّهُمْ أَن يَجْعَلَهُمْ مِّنَ الْفِرْقَةِ الْأوْلى وَلَا يَجْعَلَهُم مِّنَ الَّذِينَ غَضِبَ عَلَيْهِمْ وَلَا مِنَ الصَّالِيْنَ الَّذِينَ يَعْبُدُونَ عِيسَى وَبِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ - وَكَانَ فِي هَذَا أَنْبَاءٌ ثَلَتَةٌ لِقَوْمٍ يَتَفَرَّسُونَ اور فاتحہ کی سورۃ اس سعادت مند کے لئے جو حق تلاش کرتا اور ہمارے سامنے سے متکبر کی طرح نہیں گزرتا کافی ہے کیونکہ خدا نے اس سورۃ میں تین فرقوں کا ذکر کیا ہے جو اگلے زمانہ میں گزرے اور وہ یہ ہیں منعم علیہم اور مغضوب علیہم اور ضالین۔پھر اس امت کو چوتھا فرقہ قرار دیا اور فاتحہ میں اشارہ کیا کہ وہ ان تین فرقوں میں سے یا تو منعم علیہم کے وارث ہونگے یا مغضوب علیہم کے وارث ہونگے یا ضالین کے وارث ہونگے۔اور حکم دیا ہے کہ مسلمان اپنے رب سے چاہیں کہ ان کو پہلے فرقہ میں سے بنا دے اور مغضوب علیہم اور ضالین میں سے نہ بناوے جو ( ضالین ) عیسی کو پوجتے ہیں اور اپنے پروردگار کے برابر بناتے ہیں اور اس میں اُن کے لئے جو فراست سے کام لیتے ہیں تین پیشگوئیاں ہیں۔(خطبہ الہامیہ۔رخ جلد 16 صفحہ 160)