حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 180
180 مردم نااہل گویندم که چون عیسی شدی بشنو از من این جواب شاں کہ اے قومِ حسود نالائق لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو عیسی کیونکر ہو گیا مجھ سے اُن کا جواب سُن جو یہ ہے کہ اے حاسد قوم چوں شمارا شد یہود اندر کتاب پاک نام پس خدا عیسی مرا کرد است از بهر یهود چونکہ قرآن میں تمہارا نام یہودی رکھا گیا ہے اس لئے خدا نے مجھے یہودیوں کے لئے عیسی بنادیا ورنه از روئے حقیقت تخم ایشان نیستید نیز ہم من ابن مریم نیستم اندر وجود ور نہ دراصل تم ان یہودیوں کے تخم سے نہیں اور میں بھی جسمانی طور پر ابن مریم نہیں ہوں گرنه بودند شما ما را نبودے ہم اثر از شما شد هم ظهورم پس زغوغا با چه سود اگر تم نہ ہوتے تو ہمارا نشان بھی نہ ہوتا صرف تمہاری وجہ سے میرا ظہور ہوا پھر غل مچانے سے کیا فائدہ؟ هر چه بود از نیک و بد در دین اسرائیلیاں آں ہمہ در ملت احمد نقوش خود نمود یہودیوں کے مذہب میں جو بھلی بری باتیں موجود تھیں وہ سب دین احمد میں بھی پیدا ہوگئیں درشین فارسی صفحہ 234 نیا ایڈیشن ) ( براهین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 304) مثیل مسیح علیہ السلام اور مغضوب علیہم وہ یہودی جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے خدا نے دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سکھلا کر اشارہ فرما دیا کہ وہ بروزی طور پر اس امت میں بھی آنے والا ہے تا بروزی طور پر وہ بھی اس مسیح موعود کو ایذا دیں جو اس اُمت میں بروزی طور پر آنے والے ہیں۔بلکہ یہ فرمانا کہ تم نمازوں میں سورۃ فاتحہ کوضروری طور پر پڑھو یہ سکھلاتا ہے کہ مسیح موعود کا ضروری طور پر آنا مقدر ہے ایسا ہی قرآن شریف میں اس امت کے اشرار کو یہود سے نسبت دی گئی اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ ایسے شخص جو مریمی صفت سے محض خدا کے نفخ سے عیسوی صفت حاصل کرنے والا تھا اُس کا نام سورۃ تحریم میں ابن مریم رکھ دیا ہے کیونکہ فرمایا ہے کہ جب کہ مثالی مریم نے بھی تقویٰ اختیار کیا تو ہم نے اپنی طرف سے روح پھونک دی اس میں اشارہ تھا کہ مسیح ابن مریم میں کلمتہ اللہ ہونے کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ آخری مسیح بھی کلمتہ اللہ ہے اور روح اللہ بھی بلکہ ان دونوں صفات میں وہ پہلے سے زیادہ کامل ہے جیسا کہ سورۃ تحریم اور سورۃ فاتحہ اور سورۃ النور اور آیت كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ (ال عمران : 111) سے سمجھا جاتا ہے۔(تریاق القلوب - ر- جلد 15 صفحہ 484) قابل غور یہ امر ہے کہ یہودی کیسے مغضوب ہوئے۔انہوں نے پیغمبروں کو نہ مانا اور حضرت عیسی کا انکار کیا تو ضرور تھا کہ اس امت میں بھی کوئی زمانہ ایسا ہوتا اور ایک مسیح آتا جس سے یہ لوگ انکار کرتے اور وہ مماثلت پوری ہوتی۔ورنہ کوئی ہم کو بتائے کہ اگر اسلام پر کوئی ایسا زمانہ آنے والا ہی نہ تھا اور نہ کوئی مسیح آنا تھا پھر اس دعائے فاتحہ کی تعلیم کا کیا فائدہ تھا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 665)