حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 159
159 کتنا احسان کیا ہے اور ہمیں اُئم الکتاب (یعنی سورۃ فاتحہ ) میں حکم دیا ہے کہ ہم اس سورۃ میں انبیاء کی تمام ہدایتیں طلب کریں تا کہ ہم پر بھی وہ تمام امور منکشف کر دے جوان ( نبیوں) پر منکشف کئے تھے۔لیکن یہ سب کچھ متابعت اور فلمیت کے طور پر اور استعدادوں اور ہمتوں کے اندازہ کے مطابق ہے۔پس اگر ہم ( سچ سچ ) ہدایت کے خواہشمند ہیں تو پھر ہم کس طرح اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو ر ڈ کریں جو ہمارے لئے تیار کی گئی ہے اور ہم اللہ اصدق الصادقین (خدا) کی طرف سے اطلاع دئے جانے کے بعد کس طرح اس نعمت کا انکار کریں۔(حمامتہ البشر ئی۔رخ جلد 7 صفحہ 299) إِنَّ تَعْلِيمَ كِتَابِ اللهِ الاحْكَمِ وَرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مُنقَسِمًا عَلَى ثَلَثَةِ أَقْسَامِ الْاَوَّلُ أَن يَجْعَلَ الْوُحُوشَ أَنَاسًا وَّيُعَلِّمَهُمْ أَدَابَ الْإِنْسَانِيَّةِ وَيَهَبَ لَهُمُ مَدَارِكَ وَحَوَآسا - وَالثَّانِى أَن يَجْعَلَهُمْ بَعْدَ الْإِنْسَانِيَّةِ أَكْمَلَ النَّاسِ فِي مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ وَالثَّالِثُ أَن يُرْفَعَهُم مِّنْ مَّقَامِ الْأَخْلَاقِ إِلَى ذُرَى مَرْتَبَةِ حُبِّ الْخَلاقِ وَيُوصِلَ إلى مَنْزِلِ الْقُرْبِ وَالرِّضَاءِ وَالْمَعِيَّةِ وَالْفَنَاءِ وَالذَّوَبَانِ وَالْمَحْوِيَّةِ أَعْنِى إِلَى مَقَامٍ يَّنْعَدِمُ فِيْهِ أَثَرُ الْوُجُودِ وَالْاِخْتِيَارِ وَيَبْقَى اللَّهُ وَحْدَهُ كَمَا هُوَ يَبْقَى بَعْدَ فَنَاءِ هَذَا الْعَالِمِ بِذَاتِهِ الْقَهَّارِ فَهَذِهِ اخِرُ الْمَقَامَاتِ لِلسَّالِكِينَ وَالسَّالِكَاتِ وَإِلَيْهِ تَنْتَهِي مَطَايَا الرِّيَاضَاتِ وَفِيهِ يَخْتَتِمُ سُلُوكُ الْوَلَايَاتِ وَهُوَ الْمُرَادُ مِنَ الْإِسْتِقَامَةِ فِي دُعَاءِ سُوْرَةِ الْفَاتِحَةِ - وَكُلُّمَا يَتَضَرَّمُ مِنْ أَهْوَاءِ النَّفْسِ الْأَمَّارَةِ فَتَذُوبُ فِي هَذَا الْمَقَامِ بحُكْمِ اللهِ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْعِزَّةِ فَتُفْتَحُ الْبَلدَةُ كُلُّهَا وَلَا تَبْقَى الضَّوْضَاةُ لِعَامَّةِ الأهْوَاءِ - وَيُقَالُ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ ذِي الْمَجْدِ وَالْكِبْرِيَاءِ - ترجمه قرآن شریف کی تعلیم اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت تین قسم پر منقسم تھی۔پہلی یہ کہ وحشیوں کو انسان بنایا جائے اور انسانی آداب اور حواس اُن کو عطا کئے جائیں۔اور دوسری یہ کہ انسانیت سے ترقی دے کر اخلاق کا ملہ کے درجے تک اُن کو پہنچایا جائے۔اور تیسری یہ کہ اخلاق کے مقام سے اُن کو اٹھا کر محبت الہی کے مرتبہ تک پہنچایا جائے۔اور یہ کہ قرب اور رضا اور معیت اور فتنا (اور گدازش ) اور محویت کے مقام اُن کو عطا ہوں یعنی وہ مقام جس میں وجود اور اختیار کا نشان باقی نہیں رہتا اور خدا اکیلا باقی رہ جاتا ہے جیسا کہ وہ اس عالم کے فنا کے بعد اپنی ذات قہار کے ساتھ باقی رہے گا۔نجم الہدی۔رخ جلد 14 صفحہ 34 تا36)