حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xiv
xi اسی مضمون کی مزید وضاحت میں سورۃ اعراف کی آیت 159 يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا۔۔۔۔الایۃ اور سورۃ احزاب کی آیت 41 وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن۔۔۔الاية کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔جس قدر اس زمانہ کی ضرورتوں کے موافق اس زمانہ میں اسرار ظاہر ہونے ضروری تھے وہ اس زمانہ میں ظاہر کئے گئے۔مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے وہ ہر زمانہ میں برابر طور پر شائع ہوتی رہیں۔“ کرامات الصادقین۔۔۔خ جلد 7 صفحہ 62) قرآن کریم اور اس کے عام عرفان کے نزول کے بارے میں اس اول حقیقت کا بیان ہونے کے بعد ہم اس مقام پر آتے ہیں کہ معلوم کریں کہ قرآن کریم کے دقائق اور معارف کے نازل ہونے کا دستور خداوندی کیا ہے۔اس امر کی وضاحت میں حضرت اقدس بیان فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے دقائق اور معارف کا نزول بغیر کسی ضرورت پیش آمدہ کے نہیں ہوتا اور اسی قدر ہوتا ہے جتنی کہ اس وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔سورۃ حجر کی آیت 22 کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔وَ إِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَ مَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ۔(الحجر: 22) دنیا کی تمام چیزوں کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقدر ضرورت و مقتضائے مصلحت و حکمت ہم ان کو اتارتے ہیں۔اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوا کہ ہر ایک چیز جو دنیا میں پائی جاتی ہے وہ آسمان سے ہی اتری ہے اس طرح پر کہ ان چیزوں کے علل موجبہ اسی خالق حقیقی کی طرف سے ہیں اور نیز اس طرح پر کہ اسی کے الہام اور القاء اور سمجھانے اور عقل اور فہم بخشنے سے ہر یک صنعت ظہور میں آتی ہے لیکن زمانہ کی ضرورت سے زیادہ ظہور میں نہیں آتے اور ہر یک مامور من اللہ کو وسعت معلومات بھی زمانہ کی ضرورت کے موافق دی جاتی ہے۔علی ہذا القیاس قرآن کریم کے دقائق و معارف و حقائق بھی زمانہ کی ضرورت کے موافق ہی کھلتے ہیں۔“ (ازالہ اوہام - رخ جلد 3 صفحہ 451-450) اس حقیقت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب ضرورت پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کسی روحانی معلم کو بھیج کر قرآن کے باطنی علوم ظاہر فرماتا ہے۔فرماتے ہیں۔قرآن جامع جمیع علوم تو ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی زمانہ میں اسکے تمام علوم ظاہر ہو جائیں بلکہ جیسی جیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ویسے ویسے قرآنی علوم کھلتے ہیں اور ہر یک زمانہ کی مشکلات کے مناسب حال ان مشکلات کو حل کرنے والے روحانی معلم بھیجے جاتے ہیں جو وارث رسل ہوتے ہیں اور ظلی طور پر رسولوں کے کمالات کو پاتے ہیں اور جس مجدد کی کارروائیاں کسی ایک رسول کی منصبی کاروائیوں سے شدید مشابہت رکھتی ہیں وہ عند اللہ اسی رسول کے نام سے پکارا جاتا ہے۔شہادت القرآن - رخ جلد 6 صفحہ 348)