حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 87
87 تکمیل اشاعت ہدایت اسلام حضرت اقدس کے ذریعہ مقدر تھی ضرور تھا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت آنحضرت ﷺ کے ہاتھ سے ہوئی ایسا ہی تعمیل اشاعت ہدایت بھی آنحضرت کے ذریعہ سے ہو کیونکہ یہ دونوں آنحضرت ﷺ کے منصبی کام تھے لیکن سنت اللہ کے لحاظ سے اس قدر خلود آپ کے لئے غیر ممکن تھا کہ آپ اس آخری زمانہ کو پاتے اور نیز ایسا خلود شرک کے پھلنے کا ایک ذریعہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے آنحضر۔کی اس خدمت منصبی کو ایک ایسے امتی کے ہاتھ سے پورا کیا کہ جوانی خواور روحانیت کے رو سے گویا آنحضرت ﷺ کے وجود ایک کڑا تھا یوں کہو ہی تھا اور آسان پرقلی طور پر آپ کے نام کا شریک تا اور ہم بھی لکھ چکے ہیںکہ کی ہدایت کا چھٹا دن تھا یعنی جمعہ۔اس لئے رعایت تناسب کے لحاظ سے عمیل اشاعت ہدایت کا دن بھی چھٹا دن ہی مقرر کیا گیا یعنی آخرالف شم جو خدا کے نزدیک دنیا کا چھٹا دن ہے جیسا کہ اس وعدہ کی طرف آیت لیظهرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف: 10) اشاره فرمارہی ہے اور اس چھٹے دن میں آنحضرت ﷺ کے خوار رنگ پر ایک شخص جو مظہر تجلیات احمد یہاور محمدیہ تھا مبعوث فرمایا گیا تا تکمیل ہدایت فرقانی اس مظہر نام کے ذریعہ سے ہو جائے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 259-258) خدا تعالیٰ نے جوا تمام نعمت کی ہے وہ یہی دین ہے جس کا نام اسلام رکھا ہے۔پھر نعمت میں جمعہ کا دن بھی ہے جس روز اتمام نعمت ہوا۔یہ اس کی طرف اشارہ تھا کہ پھر ا تمام نعمت جو لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّہ کی صورت میں ہوگا وہ بھی ایک عظیم الشان جمعہ ہوگا۔وہ جمعہ اب آگیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے وہ جمعہ سیح موعود کے ساتھ مخصوص رکھا ہے اس لئے کہ اتمام نعمت کی صورتیں در اصل دو ہیں اول تکمیل ہدایت دوم تکمیل اشاعت ہدایت۔اب تم غور کر کے دیکھو تکمیل ہدایت تو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کامل طور پر ہو چکی لیکن اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا تھا کہ تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ دوسرا زمانہ ہو جبکہ آنحضرت ﷺ بروزی رنگ میں ظہور فرما دیں اور وہ زمانہ مسیح موعود اور مہدی کا زمانہ ہے۔یہی وجہ کہ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف:10) اس شان میں فرمایا گیا ہے۔تمام مفسرین نے بالا تفاق اس امر کو تسلیم کر کیا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے زمانہ سے متعلق ہے۔در حقیقت اظہار دین اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ کل مذاہب میدان میں نکل آویں اور اشاعت مذہب کے ہر قسم کے مفید ذریعے پیدا ہو جائیں اور وہ زمانہ خدا کے فضل سے آگیا ہے۔چنانچہ اس وقت پریس کی طاقت سے کتابوں کی اشاعت اور طبع میں جو جو سہولتیں میسر آئی ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ڈاکخانوں کے ذریعہ سے کل دنیا میں تبلیغ ہوسکتی ہے۔اخباروں کے ذریعہ سے تمام دنیا کے حالات پر اطلاع ملتی ہے۔ریلوں کے ذریعہ سے سفر آسان کر دیے گئے ہیں۔غرض جس قدر آئے دن نئی ایجادیں ہوتی جاتی ہیں اس قدر عظمت کے ساتھ مسیح موعود کے زمانہ کی تصدیق ہوتی جاتی ہے اور اظہارِ دین کی صورتیں نکلتی آتی ہیں۔اس لئے یہ وقت وہی وقت ہے جس کی پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلّہ کہہ کر فرمائی تھی۔یہ وہی زمانہ ہے جو الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتَى (المائدہ:4) کی شان کو بلند کرنے والا اور تکمیل اشاعت ہدایت کی صورت میں دوبارہ ا تمام نعمت کا زمانہ ہے اور پھر یہ وہی وقت اور جمعہ ہے جس میں وَآخَرينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم ( الجمع: 4) کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ کا ظہور بروزی رنگ میں ہوا ہے اور ایک جماعت صحابہ کی پھر قائم ہوئی ہے۔اتمام نعمت کا وقت آپہنچا ہے لیکن تھوڑے ہیں جو اس سے آگاہ ہیں اور بہت ہیں جو ہنسی کرتے اور ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں۔مگر وہ وقت قریب ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق تجلی فرمائے گا اور اپنے زور آور حملوں سے دکھاوے گا کہ اس کا نذ یریسچا ہے۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 135-134)