حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 83
83 ترجمہ:۔اے احمد ! خدا نے تجھے میں برکت ڈالی۔اس نے تجھے قرآن سکھایا تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے اور تا کہ مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم ہو جائے کہ کون کون مجرم ہے۔کہہ دے کہ میرے پر خدا کا حکم نازل ہوا ہے اور میں تمام مومنوں سے پہلا ہوں۔وہ خدا جس نے اپنے فرستادہ کو بھیجا اس نے دوامر کے ساتھ اسے بھیجا ہے۔ایک تو یہ کہ اس کو نعمت ہدایت سے مشرف فرمایا ہے یعنی اپنی راہ کی شناخت کے لئے روحانی آنکھیں اس کو عطا کی ہیں۔اور علم لدنی سے ممتاز فرمایا ہے۔اور کشف اور الہام سے اس کے دل کو روشن کیا ہے اور اسطرح پر الٹی معرفت اور محبت اور عبادت کا جو اس پر حق تھا اس حق کی بجا آوری کے لئے آپ اسکی تائید کی ہے۔اور اس لئے اسکا نام مہدی رکھا دوسرا امر جسکے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے وہ دین الحق کے ساتھ روحانی بیماریوں کو اچھا کرنا ہے یعنی شریعت کے صدہا مشکلات اور معضلات حل کر کے دلوں سے شبہات کو دور کرتا ہے پس اس لحاظ سے اس کا نام عیسی رکھا ہے یعنی بیماروں کو چنگا کرنے والا۔اربعین جلد 2 - رخ جلد 17 صفحہ 356 355) أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ ادَمَ - يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمَ الشَّرِيعَةَ - چو دو رِ خسروی آغاز کردند۔مسلما ن را مسلمان باز کردند إِنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا۔خدا کے احسان کا دروازہ تیرے پر کھولا گیا ہے اور اسکی پاک رحمتیں تیری طرف متوجہ ہورہی ہیں اور وہ دن آتے ہیں ( بلکہ قریب ہے ) کہ خدا تیری مدد کریگا۔وہی خدا جو جلال والا اور زمین وسمان کا پیدا کرنے والا ہے دیکھو براہین احمدیہ صفحہ 239۔اور صفحہ 522 ان تمام الہامات میں یہ پیشگوئی تھی کہ خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے اور میرے ہی ذریعہ سے دین اسلام کی سچائی اور تمام مخالف دینوں کا باطل ہونا ثابت کر دیگا۔سو آج وہ پیشگوئی پوری ہوئی۔کیونکہ میرے مقابل پر کسی مخالف کو تاب و تواں نہیں کہ اپنے دین کی سچائی ثابت کر سکے۔میرے ہاتھ سے آسمانی نشان ظاہر ہورہے ہیں اور میری قلم سے قرآنی حقائق اور معارف چمک رہے ہیں۔اٹھو اور تمام دنیا میں تلاش کرو کہ کیا کوئی عیسائیوں میں سے یا سکھوں میں سے یا یہودیوں میں سے یا کسی اور فرقہ میں سے کوئی ایسا ہے۔کہ آسمانی نشانوں کے دکھلانے اور معارف اور حقائق کے بیان کرنے میں میرا مقابلہ کر سکے۔میں وہی ہوں جسکی نسبت یہ حدیث صحاح میں موجود ہے کہ اس کے عہد میں تمام ملتیں ہلاک ہو جائیں گی۔مگر اسلام کہ وہ ایسا چکے گا۔جو درمیانی زمانوں میں کبھی نہیں چکا ہوگا۔مگر ہلاک ہونے سے یہ مراد نہیں کہ مخالف تلوار سے زیر کئے جائیں گے۔ایسے خیالات غلطیاں ہیں۔بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ برکت کی روح ان تمام مذہبوں میں سے جاتی رہے گی۔اور وہ ایسے ہو جائیں گے جیسا کہ بدن بیجان۔سو یہ وہی زمانہ ہے۔کیا کبھی کسی آنکھ نے دیکھا کہ جس مقابلہ کے لئے میں لوگوں کو بلاتا ہوں کبھی کسی نے درمیانی زمانوں میں سے اس طرح بلایا۔یہ انسان کے دن نہیں بلکہ خدا کے دن ہیں اور ایام اللہ ہیں۔یہ کاروبار زمین سے نہیں بلکہ اس کے ہاتھ سے ہے جو ذ والجلال اور جی اور قیوم ہے۔مبارک وہ دل جو پشیمانی کے دن سے پہلے سمجھ لے۔اور مبارک وہ آنکھیں جو مواخذہ کی گھڑی سے پہلے دیکھ لیں۔تریاق القلوب۔رخ جلد 15 صفحه 267تا268)