حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 81 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 81

81 مسیح موعود ہی حکم عدل ہے حکم و عدل کی اطاعت ہماری جماعت کے لئے تو یہ امر دور از ادب ہے کہ وہ اس قسم کی باتیں پیش کریں یا ان کے وہم میں بھی ایسی باتیں آئیں۔اور میں سچ کہتا ہوں کہ میں جو کرتا ہوں۔وہ خدا تعالی کی تفہیم اور اشارہ سے کرتا ہوں۔پھر کیوں اس کو مقدم نہیں کرتے اور پیشگوئی سمجھ کر اسکی عزت نہیں کرتے۔جیسے حضرت عمر نے آنحضرت کی پیشگوئی سمجھ کر ایک صحابی کو سونے کے کڑے پہنا دیئے۔اب تم بتاؤ کہ اور کیا چاہتے ہو۔خدا نے اس قدر نشان تمہارے لئے جمع کر دیئے ہیں۔اگر خدا تعالی پر ایمان ہو تو کوئی وہم اور خیال اس قسم کا پیدا نہیں ہو سکتا جس سے اعتراض کا رنگ پایا جائے اور اگر اس قدر نشان دیکھتے ہوئے بھی کوئی اعتراض کرتا اور علیحدہ ہوتا ہو تو وہ بے شک نکل جائے اور علیحدہ ہو جاوے۔اسکی خدا کو کیا پرواہ ہے۔وہ کہیں جگہ نہیں پاسکتا۔جبکہ خدا تعالی نے مجھے حکم عدل ٹھہرایا ہے۔اور تم نے مان لیا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 50-51) اب تم خود یہ سوچ لو اور اپنے دلوں میں فیصلہ کر لو کہ کیا تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے۔اور مجھے مسیح موعود حکم، عدل مانا ہے تو اس ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے۔تو اپنے ایمان کا فکر کرو۔وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے، کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہوگا۔لیکن اگر تم نے بچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود واقعی حکم ہے۔تو پھر اس کے حکم اور فعل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو۔اور اس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ ﷺ کی پاک باتوں کی عزت اور عظمت کرنے والے ٹھہر ورسول اللہ کی شہادت کافی ہے۔وہ تسلی دیتے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا، وہ حکم عدل ہوگا۔اگر اس پر تسلی نہیں ہوئی تو پھر کب ہوگی۔یہ طریق ہر گز اچھا اور مبارک نہیں ہوسکتا کہ ایمان بھی ہو اور دل کے بعض گوشوں میں بدظنیاں بھی ہوں۔میں اگر صادق نہیں ہوں تو پھر جاؤ اور صادق تلاش کرو اور یقیناً سمجھو کہ اس وقت اور صادق نہیں مل سکتا۔اور پھر اگر کوئی دوسرا صادق نہ ملے اور نہیں ملے گا تو پھر میں اتنا حق مانگتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو دیا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 52 ) اے حسرت ایں گروہ عزیزاں مرا ندید وقتے به بیندم که ازین خاک بگذرم افسوس عزیزوں نے مجھے نہ پہچانا۔یہ مجھے اس وقت جانیں گے جب میں اس دنیا سے گذر جاؤں گا۔امروز قوم من نشناسد مقام من روزے بگریه یاد کند وقت خوشترم آج کے دن میری قوم میرا درجہ نہیں پہچانتی لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ رور وکر میرے مبارک وقت کو یاد کرے گی۔در شین فارسی مترجم صفحه 165 166 ) (ازالہ اوہام - ر - خ - جلد 3 صفحہ 184)