حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 80
80 مرا بگلشن رضوان حق شدست گذر مقام من چمن قدس واصطفا باشد اللہ تعالی کی رضا کے باغ میں میرا گذر ہوا ہے میرا مقام بر گزیدگی اور تقدس کا چمن ہے کمالِ پاکی وصدق و صفا که گم شده بود دوباره از خن و وعظ من بپا باشد پاکیزگی اور صدق و صفا کا کمال جو معدوم ہو گیا تھا وہ دوبارہ میرے کلام اور وعظ سے قائم ہوا ہے مرنج از سخنم ایکه سخت بے خبری که اینکه گفته ام از وحیء کبریا باشد اے شخص جو بالکل بیخبر ہے میری بات سے ناراض نہ ہو کہ جو میں نے کہا ہے یہ خدا کی وحی سے کہا ہے گم شده از خود بنور حق پیوست ہر آنچه از دهنش بشنوی بجا باشد جو شخص اپنی خودی کو چھوڑ کر خدا کے نور میں جاملا اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات حق ہوگی تریاق القلوب۔رخ جلد 15 صفحہ 134) اب میں جناب مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔جناب من آپکا مخاطب ایک مدعی امامت ہے۔اگر چہ آپ اس کو کا ذب اور مفتری جانتے ہیں پس اسکے مسلمات سے اسے ساکت کرنالازم ہے۔تفسیر برغانی اور طبرانی ابونعیم وغیرہ کا حوالہ دینا یا انکی روایات غیر مصحہ پیش کرنا ایک مدعی کے بالمقابل جس کا دعوئی ہو کہ میں حکم ہو کر قرآن مجید اور رسول اکرم ﷺ کی عظمت قائم کرنے کے لیے دنیا میں آیا ہوں اپنے او پر جہالت کا الزام قائم کرنے سے زیادہ نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔وہ نہ حنفی ہے نہ شافعی نہ مالکی نہ حنبلی اور نہ جعفری نہ مقلد نہ اہل حدیث۔پھر آپ حنفیوں یا شافیوں یا مالکیوں وغیرہ کے علماء یا مفسرین کے اقوال پیش کر کے اسکو ملزم کیونکر کر سکتے ہیں اگر وہ ان اقوال کا پابند ہو تو منصب امامت در حقیقت اسکے لیے سزاوار نہیں ہے وہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں اس وقت کا حکم ہوں برغانی ہو یا طبرانی ان میں مفسروں کے اپنے عندیات کا ذخیرہ ہوگا یا کچھ اور۔اگر آپ کہیں کہ تفسیر قرآن ہے تو ہم کہیں گے کہ پھر اس قدر مختلف الاقوال تفاسیر جنگی تعداد ہزار ہا سے بڑھ گئی کیوں شائع ہوئی ہیں اور ان میں اختلاف ہی کیوں واقع ہوا۔اور حضرت مہدی آخر الزمان کی نسبت کیا آپکے مسلمات میں درج نہیں کہ وہ اختلاف رفع کرنے کو آویں گے اور سب ادیان کو ایک دین بنادینگے۔کیا جب امام مہدی تشریف لا ئینگے بلا وعظ اور بلا نصیحت اور بلا تغیر و تبدل دین خود بخود ایک ہو جاویگا آیا کچھ ترمیم و تنسیخ بھی کرنیگے یا نہیں۔کیا وہ ظاہر ہو کر مجہتدین کربلا کے فتوے پر چلیں گے یا مجتہدین نجف ایران یا مجتہدین لکھنو ولاہور۔فرما دیں وہ کس مجتہد کے مقلد ہوں گے اور کس کے فتوے پر عمل کریں گے نہیں میں بھول گیا وہ ضرور آپ کے فتوے پر چلیں گے۔مگر افسوس کہ آپ یہ بھی نہیں مانیں گے۔پس جو امام ہوتا ہے وہ کسی کا مقلد نہیں ہوتا۔بلکہ وہ خود کم ہوتا ہے اس کے بالمقابل تفسیر برغانی اور دلائل النبوت کا حوالہ دینا کوئی عقلمند طبیعت اس کو جائز نہیں رکھ سکتی ہے۔( نزول اسیح - رخ جلد 18 صفحہ 424-425 حاشیہ )