حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 910 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 910

910 وَفَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيم۔(الصفت: 108) انبیاء اور رسل کو جو بڑے بڑے مقام ملتے ہیں وہ ایسی معمولی باتوں سے نہیں مل جاتے جو نرمی سے اور آسانی سے پوری ہو جائیں بلکہ ان پر بھاری ابتلاء اور امتحان وارد ہوئے جن میں وہ صبر اور استقلال کے ساتھ کامیاب ہوئے تب خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو بڑے بڑے درجات نصیب ہوئے۔دیکھو حضرت ابراہیم پر کیسا را ابتلاء آ یا۔اس نے اپنے ہاتھ میں چھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے اور اس چھری کو اپنے بیٹے کی گردن پر اپنی طرف سے پھیر دیا مگر آگے بکر ا تھا۔ابراہیم امتحان میں پاس ہوا اور خدا نے بیٹے کو بھی بچالیا۔تب خدا تعالیٰ ابراہیم پر خوش ہوا کہ اس نے اپنی طرف سے کوئی فرق نہ رکھا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ بیٹا بچ گیاور نہ ابراہیم نے اس کو ذبح کر دیا تھا۔اس واسطے اس کو صادق کا خطاب ملا۔اور توریت میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم تو آسمان کے ستاروں کی طرف نظر کر کیا تو ان کو گن سکتا ہے۔اسی طرح تیری اولا د بھی نہ گئی جائے گی۔تھوڑے سے وقت کی تکلیف تھی وہ تو گزرگئی اسکے نتیجہ میں کس قدر انعام ملا۔آج تمام سادات اور قریش اور یہود اور دیگر اقوام اپنے آپ کو ابراہیم کا فرزند کہتے ہیں۔گھڑی دو گھڑی کی بات تھی وہ تو ختم ہوگئی اور اتنا بڑا انعام ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 417-416) وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِأَيْتِ رَبَّنَا لَمَّا جَاءَ تُنَا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ۔(الاعراف: 127) اے خدا اس مصیبت میں ہمارے دل پر وہ سکینت نازل کر جس سے صبر آ جائے اور ایسا کر کہ ہماری موت اسلام پر ہو۔جانا چاہیئے کہ دکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالے اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نورا تارتا ہے جس سے وہ قوت پا کر نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوت ایمانی سے ان زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں ان کے پیروں میں پڑیں۔جب با خدا آدمی پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور موت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے رب کریم سے خواہ نخواہ کا جھگڑا شروع نہیں کرتا کہ مجھے ان بلاؤں سے بچا کیونکہ اس وقت عافیت کی دعا میں اصرار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی اور موافقت تامہ کے مخالف ہے بلکہ سچا محبت بلا کے اترنے سے اور آگے قدم رکھتا ہے اور ایسے وقت میں جان کو نا چیز سمجھ کر اور جان کی صحت کو الوداع کہہ کر اپنے مولیٰ کی مرضی کا بکلی تابع ہو جاتا اور اس کی رضا چاہتا ہے اسی کے حق میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِكْ نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَ اللهُ رَءُ وَق بِالْعِبَادِ (البقرة: 208) یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا تعالیٰ کی مرضی خرید لیتا ہے وہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رحمت خاص کے مورد ہیں۔غرض وہ استقامت جس سے خدا ملتا ہے اس کی یہی روح ہے جو بیان کی گئی جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 421-420)