حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 862 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 862

862 عبادت میں لذت ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذريت: 57)۔اب انسان جب کہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سرور بھی درجہ ء غایت کا رکھا ہو۔اس بات کو ہم اپنے روزمرہ کے مشاہدہ اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً دیکھواناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں تو کیا ان سے وہ ایک لذت اور حفظ نہیں پاتا ہے؟ کیا اس ذائقہ مزے اور احساس کے لئے اس کے منہ میں زبان موجود نہیں۔کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہو یا جمادات حیوانات ہوں یا انسان حفظ نہیں پاتا۔کیا دل خوشکن اور سریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے ؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحه (101) نماز سب سے بڑا وظیفہ ہے إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى۔(طه: 15) نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے استغفار ہے اور درود شریف تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم و ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے اَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ اطمینان سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔روزه ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 311-310) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔(البقرة: 184) پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کے لیے تسلی اور سیری کا باعث ہے۔اور جولوگ محض خدا کے لیے روزے رکھتے ہیں اور مرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالی کی حد اور تیج اور تہلیل میں لگے رہیں۔جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 102)