حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 840
840 طریقت۔نفس کے تین درجے وَ مَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي عفور رحيم۔(يوسف : 54 قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس انسانی کی تین حالتیں ہیں ایک امارہ۔دوسری لوامہ۔تیسری مطمئنہ نفس امارہ کی حالت میں انسان شیطان کے پنجہ میں گویا گرفتار ہوتا ہے اور اس کی طرف بہت جھکتا ہے لیکن نفس لوامہ کی حالت میں وہ اپنی خطا کاریوں پر نادم ہوتا اور شرمسار ہو کر خدا کی طرف جھکتا ہے مگر اس حالت میں بھی ایک جنگ رہتی ہے کبھی شیطان کی طرف جھکتا ہے اور کبھی رحمان کی طرف مگر نفس مطمئنہ کی حالت میں وہ عبادالرحمان کے زمرہ میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ گویا ارتفاعی نقطہ ہے جس کے بالمقابل نیچے کی طرف امارہ ہے۔اس میزان کے بیچ میں لوامہ ہے جو تر از و کی زبان کی طرح ہے۔انخفاضی نقطہ کی طرف اگر زیادہ جھکتا ہے تو حیوانات سے بھی بدتر اور ارذل ہو جاتا ہے اور ارتفاعی نقطہ کی طرف جس قدر رجوع کرتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ کی طرف قریب ہوتا جاتا ہے اور سفلی اور ارضی حالتوں سے نکل کر علوی اور سماوی فیضان سے حصہ لیتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 69-68) یا کبازی کی اصل جڑایمان باللہ ہے یقینا سمجھو کہ ہر ایک پاکبازی اور نیکی کی اصلی جز خدا پر ایمان لانا ہے۔جس قدر انسان کا ایمان باللہ کمزور ہوتا ہے اسی قدر اعمال صالحہ میں کمزوری اور ستی پائی جاتی ہے لیکن جب ایمان قوی ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کاملہ کے ساتھ یقین کر لیا جائے اسی قدر عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے خدا پر ایمان رکھنے والا گناہ پر قادر نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ایمان اس کی نفسانی قوتوں اور گناہ کے اعضا کو کاٹ دیتا ہے۔دیکھو اگر کسی کی آنکھیں نکال دی جاویں تو وہ آنکھوں سے بد نظری کیونکر کر سکتا ہے اور آنکھوں کا گناہ کیسے کرے گا اور اگر ایسا ہی ہاتھ کاٹ دیئے جاویں یا شہوانی قومی کاٹ دیئے جاویں۔پھر وہ گناہ جو ان اعضا سے متعلق ہیں کیسے کر سکتا ہے؟ ٹھیک اسی طرح پر جب ایک انسان نفس مطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے تو نفس مطمئنہ اسے اندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں گناہ کی قوت نہیں رہتی۔وہ دیکھتا ہے پر نہیں دیکھتا کیونکہ آنکھوں کے گناہ کی نظر ساب ہو جاتی ہے۔وہ کان رکھتا ہے مگر بہرہ ہوتا ہے اور وہ باتیں جو گناہ کی میں نہیں سن سکتا۔اسی طرح پر اس کی تمام نفسانی اور شہوانی قوتیں اور اندرونی اعضا کاٹ دیئے جاتے ہیں۔اس کی ان ساری طاقتوں پر جن سے گناہ صادر ہوسکتا تھا ایک موت واقع ہو جاتی ہے اور وہ بالکل ایک میت کی طرح ہوتا ہے۔اور خدا تعالیٰ ہی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔وہ اس کے سوا ایک قدم نہیں اٹھا سکتا۔یہ وہ حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامل اطمینان اسے دیا جاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جو انسان کا اصل مقصود ہونا چاہیئے اور ہماری جماعت کو اسی کی ضرورت ہے اور اطمینان کامل کے حاصل کرنے کے واسطے ایمان کامل کی ضرورت ہے پس ہماری جماعت کا پہلا فرض یہ ہے۔کہ وہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل کر لے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 504)