حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 841 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 841

841 ہمیں اس یار سے تقویٰ عطا ہے نہ یہ ہم کہ احسانِ خدا ہے کرو کوشش اگر صدق و صفا ہے یہی آئینہ خالق نما که حاصل ہو جو شرط لقا ہے ہے یہی اک جوہر سیف دعا ہے ہر اک نیکی کی جڑھ اتقا ہے اگر بڑھ رہی سب نہ کچھ رہا ہے یہی اک فخر شانِ اولیاء ہے بجو تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے اگر سوچو - یہی دار الجزاء ہے مجھے تقویٰ سے اس نے جزا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک سنو! وہ ہے جس کا کام تقویٰ تقوی ہے حاصل اسلام تقویٰ خدا کا عشق مے اور جام بناؤ تام تقویٰ کہاں ایماں اگر یہ دولت تو نے مجھ کو اے خدا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي مسلمانو ! مقامات سلوک - مقام فنا ہے خام تقویٰ در شین اردو) اس جگہ یہ نکتہ بھی یادر ہے کہ آیت موصوفہ بالا یعنے بلى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: 113) سعادت تامہ کے تینوں ضروری درجوں یعنے فنا اور بقا اور لقا کی طرف اشارت کرتی ہے۔کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ کا فقرہ یہ تعلیم کر رہا ہے کہ تمام قومی اور اعضا اور جو کچھ اپنا ہے خدا تعالیٰ کو سونپ دینا چاہیئے اور اس کی راہ میں وقف کر دینا چاہیئے اور یہ وہی کیفیت ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں فنا ہے۔وجہ یہ کہ جب انسان نے حسب مفہوم اس آیت ممدوحہ کے اپنا تمام وجود معہ اسکی تمام قوتوں کے خدا تعالیٰ کو سونپ دیا اور اسکی راہ میں وقف کر دیا اور اپنی نفسانی جنبشوں اور سکونوں سے بکلی باز آ گیا۔تو بلا شبہ ایک قسم کی موت اسپر طاری ہوگئی اور اسی موت کو اہل تصوف فنا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔مقام بقا پھر بعد اسکے وَهُوَ مُحْسِن کا فقرہ مرتبہ بقا کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ جب انسان بعد فنائے اکمل واتم وسلب جذبات نفسانی۔الہبی جذبہ اور تحریک سے پھر جنبش میں آیا اور بعد منقطع ہو جانے تمام نفسانی حرکات کے پھر ربانی تحریکوں سے پر ہو کر حرکت کرنے لگا تو یہ وہ حیات ثانی ہے جس کا نام بقا رکھنا چاہیئے۔