حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 825
825 وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّةً اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَ اتَّبَعُ هَوَيهُ۔(الاعراف: 177) ابتدائی رؤیا یا الہام کے ذریعہ سے خدا بندہ کو بلانا چاہتا ہے مگر وہ اس کے واسطے کوئی حالت قابل تشفی نہیں ہوتی چنا نچہ بلغم کو الہامات ہوتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کہ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعُهُ ثابت ہوتا ہے کہ اس کا رفع نہیں ہوا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور میں وہ کوئی برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ ابھی تک نہیں بنا تھا۔یہاں تک کہ وہ گر گیا۔ان الہامات وغیرہ سے انسان کچھ بن نہیں سکتا۔انسان خدا کا بن نہیں سکتا جب تک کہ ہزاروں موتیں اس پر نہ آویں اور بیضئہ بشریت سے وہ نکل نہ آئے۔وَالَّذِي يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ۔(الشعراء: 82) ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 486) فگند وہ خدا جو مجھے مارتا ہے اور پھر زندہ کرتا ہے۔اس موت اور حیات سے مراد صرف جسمانی موت اور حیات نہیں بلکہ اس موت اور حیات کی طرف اشارہ ہے جو سالک کو اپنے مقامات و منازل سلوک میں پیش آتی ہے چنانچہ وہ خلق کی محبت ذاتی سے مارا جاتا اور خالق حقیقی کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے اور پھر اپنے رفقاء کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور رفیق اعلیٰ کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے اور پھر اپنے نفس کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور محبوب حقیقی کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے۔اسی طرح کئی موتیں اس پر وارد ہوتی رہتی ہیں اور کئی حیاتیں یہاں تک کہ کامل حیات کے مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے سو وہ کامل حیات جو اس سفلی دنیا میں چھوڑنے کے بعد ملتی ہے وہ جسم خاکی کی حیات نہیں بلکہ اور رنگ اور شان کی حیات ہے۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 432) بست آں عالیجنا ہے بس بلند بر وصلش شوربا باید وہ بارگاہ نہایت اونچی اور عالی شان ہے اس کے وصل کے لیے بہت آہ وزاری کرنی چاہیئے۔در مردن و عجز و بکاست هر که افتاد ست او آخر بخاست زندگی مرنے اور انکسار اور گریہ وزاری میں ہے جو گر پڑا وہی آخر ( زندہ ہوکر ) اُٹھے گا۔تا نه کار در دکس تا جاں رسد کے فغانش تا در جاناں رسد جب تک درد کا معاملہ جان لینے تک نہ پہنچے تب تک اس کی آہ وفریاد در جاناں تک نہیں پہنچتی۔تانه قربانِ خدائے خود شویم! جب تک ہم اپنے خدا پر قربان نہ ہو جائیں اور جب تک اپنے دوست کے اندر جو نہ ہو جائیں۔از وجود خود بروں تانه گردد پرز مهرش اندروں زندگی تانه تانه محو آشنائے خود شویم! جب تک ہم اپنے وجود سے علیحدہ نہ ہوجائیں اور جب تک سینہ اس کی محبت سے بھر نہ جائے۔تانه بر ما مرگ آید صد ہزار کے حیاتی تازه بینیم از نگار ہم پر لاکھوں موتیں وارد نہ ہوں تب تک ہمیں اس محبوب کی طرف سے نئی زندگی کب مل سکتی ہے۔تا نہ ریزد ہر پرو بالے کہ ہست مرغ این ره را پریدن مشکل است جب تک اپنے اگلے بال و پر نہ جھاڑ ڈالے تب تک اس راہ کے پرندے کے لیے اُڑ نا مشکل ہے۔(سراج منیر۔رخ- جلد 12 صفحہ 100 ) ( در متین فارسی صفحه 237-236)