حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 824
824 حقیقی وظیفہ نماز ہے اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَ اَقِمِ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ لَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُه وَ اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (العنكبوت: 46) ط نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہ بالعدم قرار دے کر جور بوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اس کا فیضان اور پر تو اس پر نہیں پڑتا اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اسے انقطاع تام ہو جاتا ہے اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام صلوۃ ہے جو سیات کو بھسم کر جاتی ہے اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستہ کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے اور ہر قسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خارونس سے جو اس کی راہ میں ہوتے ہیں آگاہ کر کے بچاتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جبکہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں نہیں۔نہیں اس کے شمع دان دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہو ا ہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلل کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے پھر گناہ کا خیال اسے آ کیونکرسکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔فحشاء کی طرف اس کی نظر اٹھ ہی نہیں سکتی۔غرض اسے ایسی لذت ایسا سرور حاصل ہوتا ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اسے کیونکر بیان کروں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 105) انقطاع الی اللہ۔موت کو اختیار کرنا ہے وَاعْبُدُ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔(الحجر: 100) پس یہ کچی بات ہے کہ نفس امارہ کی تاروں میں جو یہ جکڑا ہوا ہے اس سے رہائی بغیر موت کے ممکن ہی نہیں۔اسی موت کی طرف اشارہ کر کے قرآن شریف میں فرمایا ہے وَاعْبُدُ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔۔اس جگہ یقین سے مراد موت بھی ہے یعنی انسان کی اپنی ہوا و ہوس پر پوری فنا طاری ہوکر اللہ تعالیٰ کی اطاعت رہ جاوے اور وہ یہاں تک ترقی کرے کہ کوئی جنبش اور حرکت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نہ ہو۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 399)