حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 803
803 جاں فدائے آنکه او جاں آفرید دل ثار آنکه زوشد دل پدید جان اس پر قربان ہے جس نے اس جان کو پیدا کیا دل اس پر نثار ہے جس نے دل کو بنایا۔جال از و پیداست زیں مے جویدش رَبُّنَا اللهُ رَبُّنَا الله گویدش جان چونکہ اس کی مخلوق ہے اس لیے اسے ڈھونڈتی ہے اور کہتی ہے کہ تو ہی میرا رب ہے تو ہی میرا رب ہے۔گر وجودِ جاں نبودے زو عیاں کے شدے مہر جمالش نقش جاں اگر جان کا وجود اس کی طرف سے ظاہر نہ ہوتا۔تو اس کے حسن کی محبت جان پر کس طرح نقش ہوتی۔جسم و جاں را کرد پیدا آں لگاں زین دود دل سوئے اوچوں عاشقاں جسم اور جان کو اسی یکتا نے پیدا کیا ہے اسی لیے عاشقوں کی طرح دل اس کی طرف دوڑتا ہے۔(ست بچن۔رخ۔جلد 10 صفحہ 113 ) ( درشین فارسی متر جم صفحه 215) فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا۔(الروم : 31) اسلام انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے اور خدا تعالیٰ نے انسان کو اسلام پر پیدا کیا اور اسلام کے لئے پیدا کیا ہے یعنی یہ چاہا ہے کہ انسان اپنے تمام قومی کے ساتھ اس کی پرستش اطاعت اور محبت میں لگ جائے اسی وجہ سے اس قادر کریم نے انسان کو تمام قومی اسلام کے مناسب حال عطا کئے ہیں۔انسان کو جو کچھ اندرونی اور بیرونی اعضاء دیے گئے ہیں یا جو کچھ قو تیں عنایت ہوئی ہیں اصل مقصود ان سے خدا کی معرفت اور خدا کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی محبت ہے اسی وجہ سے انسان دنیا میں ہزاروں شغلوں کو اختیار کر کے پھر بھی بجز خدا تعالیٰ کے اپنی سچی خوشحالی کسی میں نہیں پاتا۔بڑا دولتمند ہو کر بڑا عہدہ پا کر بڑا تاجر بن کر بڑی بادشاہی تک پہنچ کر بڑا فلاسفر کہلا کر آخران دنیوی گرفتاریوں سے بڑی حسرتوں کے ساتھ جاتا ہے اور ہمیشہ دل اس کا دنیا کے استغراق سے اس کو ملزم کرتا رہتا ہے اور اس کے مکروں اور فریبوں اور نا جائز کاموں میں کبھی اس کا کانشنس اس سے اتفاق نہیں کرتا۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 415) مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے وہی جنت وہی دارالاماں ہے بیان اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے یہ کیا احساں ہیں تیرے میرے ہادی فسبحان الذي اخزى الاعادى ترے کوچے میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھکو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فسبحان الذي اخزى الاعادي بشیر احمد شریف احمد اور مبارکہ کی آمین ) ( در نتین اردو صفحہ 50)