حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 802 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 802

802 محبت الہی انسان کی فطرت میں ہے وَإِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلَى اَنْفُسِهِمُ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ، قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هذَا غُفِلِينَ۔(الاعراف : 173) نجات کا تمام مدار خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ پر ہے اور محبت ذاتیہ اس محبت کا نام ہے جو روحوں کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق ہے پھر جس حالت میں ارواح پر میشر کی مخلوق ہی نہیں ہیں تو پھر ان کی فطری محبت پر میشر سے کیونکر ہو سکتی ہے۔اور کب اور کس وقت پر میشر نے ان کی فطرت کے اندر ہاتھ ڈال کر یہ محبت اس میں رکھ دی یہ تو غیر ممکن ہے۔وجہ یہ ہے کہ فطرتی محبت اس محبت کا نام ہے جو فطرت کے ساتھ ہمیشہ سے لگی ہوئی ہو اور پیچھے سے لاحق نہ ہو جیسا کہ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ اس کا یہ قول ہے الست بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی یعنی میں نے روحوں سے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا پیدا کنندہ نہیں ہوں تو روحوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ انسانی روح کی فطرت میں یہ شہادت موجود ہے کہ اس کا خدا پیدا کنندہ ہے۔پس روح کو اپنے پیدا کنندہ سے طبعاً محبت ہے اس لیے کہ وہ اس کی پیدائش ہے۔(چشمہ مسیحی۔ر خ جلد 20 صفحہ 364 363) کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشان اس میں جمالِ یار کا خوبرویوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اس ترے گلزار کا ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا چشم مست ہر تو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک اس سے ہے شورِ محبت عاشقان زار کا ش شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا سرمه چشم آریہ - ر-خ- جلد 2 صفحہ 52 ) ( در مشین اردو)