حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 801
801 پہلی فصل تعریف سلوک یعنی محبت الہی قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ۔(آل عمران: 32) سلوک صوفیوں نے ترقیات کی دورا ہیں لکھی ہیں۔ایک سلوک دوسرا جذب۔سلوک وہ ہے جو لوگ آپ عقلمندی سے سوچ کر اللہ ورسول کی راہ اختیار کرتے ہیں۔جیسے فرمایا۔قُل إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله ( آل عمران:32) یعنی اگر تم اللہ کے پیارے بنا چاہتے ہوتو رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی کرو۔وہ ہادی کامل وہی رسول ہیں جنہوں نے وہ مصائب اٹھا ئیں کہ دنیا اپنے اندر نظیر نہیں رکھتی۔ایک دن بھی آرام نہ پایا۔اب پیروی کرنے والے بھی حقیقی طور سے وہی ہوں گے۔جو اپنے متبوع کے ہر قول وفعل کی پیروی پوری جد و جہد سے کریں۔متبع وہی ہے جو سب طرح پیروی کرے گا۔سہل انگار اور سخت گزار کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے غضب میں آوے گا۔یہاں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا حکم دیا تو سالک کا کام یہ ہونا چاہئے کہ اول رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل تاریخ دیکھے اور پھر پیروی کرے۔اسی کا نام سلوک ہے۔اس راہ میں بہت مصائب و شدائد ہوتے ہیں۔ان سب کو اٹھانے کے بعد ہی انسان سالک ہوتا ہے۔جذب اہل جذب کا درجہ سالکوں سے بڑھا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں سلوک کے درجہ پر ہی نہیں رکھتا بلکہ خودان کو مصائب میں ڈالتا اور جاذبہ ازلی سے اپنی طرف کھینچتا ہے۔کل انبیاء مجذوب ہی تھے۔جس وقت انسانی روح کو مصائب کا مقابلہ ہوتا ہے ان سے فرسودہ کار اور تجربہ کار ہو کر روح چمک اٹھتی ہے۔جیسے تو ہایا شیشہ اگر چہ چمک کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے۔لیکن صیقلوں کے بعد ہی مجتبی ہوتا ہے۔حتی کہ اس میں منہ دیکھنے والے کا منہ نظر آ جاتا ہے۔مجاہدات بھی صیقل کا ہی کام کرتے ہیں۔دل کا صیقل یہاں تک ہونا چاہئے کہ اس میں سے بھی منہ نظر آ جاوے۔منہ کا نظر آنا کیا ہے؟ تَخَلَّقُوا بِاَخلاقِ اللہ کا مصداق ہونا۔سالک کا دل آئینہ ہے جس کو مصائب و شدائد اس قدر صیقل کر دیتے ہیں کہ اخلاق النبی اس میں منعکس ہو جاتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے۔جب بہت مجاہدات اور تزکیوں کے بعد اس کے اندر کسی قسم کی کدورت یا کثافت نہ رہے تب یہ درجہ نصیب ہوتا ہے۔ہر ایک مومن کو ایک حد تک ایسی صفائی کی ضرورت ہے۔کوئی مومن بلا آئینہ ہونے کے نجات نہ پائے گا۔سلوک والا خود یہ میقل کرتا ہے اپنے کام سے مصائب اٹھاتا ہے لیکن جذب والا مصائب میں ڈالا جاتا ہے۔خدا خوداس کا مصقل ہوتا ہے اور طرح طرح کے مصائب و شدائد سے میںقل کر کے اس کو آئینہ کا درجہ عطا کر دیتا ہے۔دراصل سالک و مجذوب دونوں کا ایک ہی نتیجہ ہے۔سو متقی کے دو حصے ہیں۔سلوک و جذب۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 18 17 )