حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 790
790 میرا معاملہ اگر سمجھ میں نہیں آتا تو طریق تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگو تا کہ وہ خود تم پر اصل حقیقت کھول دے۔خدا تعالیٰ کے کلام کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ طریق نجات بھول جانے کا اندیشہ ہے۔آج وقت ہے بصیرت سے کام لو۔قرآن شریف قانون آسمانی اور نجات کا ذریعہ ہے۔اگر ہم اس میں تبدیلی کریں تو یہ بہت ہی سخت گناہ ہے۔تعجب ہوگا کہ ہم یہودیوں اور عیسائیوں پر بھی اعتراض کرتے ہیں اور پھر قرآن شریف کے لئے وہی روار کھتے ہیں۔مجھے اور بھی افسوس اور تعجب آتا ہے کہ وہ عیسائی جن کی کتابیں فی الواقعہ محرف مبدل ہیں وہ تو کوشش کریں کہ تحریف ثابت نہ ہو اور ہم خود تحریف کرنے کی فکر میں !!! اس سے بچو۔دیکھو افتراء کرنے والا خبیث اور موذی ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے کلام میں تحریف کرنا۔یہ بھی افتراء ہے ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 130 ) تحریف تقریری ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ صحابہ کرام اور سلف صالح کی یہی عادت تھی کہ جب کہیں آیت اور حدیث میں تعارض و تخالف پاتے تو حدیث کی تاویل کی طرف مشغول ہوتے۔مگر اب یہ ایسا زمانہ آیا ہے کہ قرآن کریم سے حدیثیں زیادہ پیاری ہو گئیں ہیں اور حدیثوں کے الفاظ قرآن کریم کے الفاظ کی نسبت زیادہ محفوظ سمجھے گئے ہیں۔ادنیٰ ادنی بات میں جب کسی حدیث کا قرآن کریم سے تعارض دیکھتے ہیں تو حدیث کی طرف ذرہ شک نہیں گذرتا یہودیوں کی طرح قرآن کریم کا بدلا نا شروع کر دیتے ہیں اور کلمات اللہ کو ان کے اصل مواضع سے پھیر کر کہیں کا کہیں لگا دیتے ہیں اور بعضے فقرے اپنی طرف سے بھی ملا دیتے ہیں اور اپنے تئیں یحرفون الكلم عن مواضعه (النساء:47) كا مصداق بنا کر اس لعنتہ اللہ سے حصہ لے لیتے ہیں جو پہلے اس سے یہودیوں پر انہیں کاموں کی وجہ سے وار دو نازل ہوئی تھی۔بعض تحریف کی یہ صورت اختیار کرتے ہیں کہ فقرہ متو فیک کو مقدم ہی رکھتے ہیں مگر بعد اس کے انی محییک کا فقرہ اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں۔ذرہ خیال نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ نے تحریف کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے اور بخاری نے اپنی صحیح کے آخر میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کی تحریف یہی تھی کہ وہ پڑھنے میں کتاب اللہ کے کلمات کو ان کے مواضع سے پھیرتے تھے اور حق بات یہ ہے کہ وہ دونوں قسم کی تحریف تحریری و تقریری کرتے تھے مسلمانوں نے ایک قسم میں ( جو تقریری تحریف ہے ) ان سے مشابہت پیدا کر لی۔اور اگر وعدہ صادقہ انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحفظون (الحجر: 10) تصرف تحریری سے مانع نہ ہوتا تو کیا تعجب کہ یہ لوگ رفتہ رفتہ تحریر میں بھی ایسی تحریفیں شروع کر دیتے کہ فقر در افعک کو مقدم اورانی متوفیک کو مؤخرلکھ دیتے۔اور اگر ان سے پوچھا جائے کہ تم پر ایسی مصیبت کیا آپڑی ہے کہ تم کتاب اللہ کے زیروز بر اور محرف کرنے کی فکر میں لگ گئے تو اس کا یہ جواب دیتے ہیں که تا کسی طرح قرآن کریم ان حدیثوں کے مطابق ہو جاوے جن سے بظاہر معارض و مخالف معلوم ہوتا ہے۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 611)