حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 789 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 789

789 تحریف معنوی مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْايُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ (النساء: 47) قرآن کریم کے عموم محاورہ پر نظر ڈالنے سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تمام قرآن میں تو فی کا لفظ قبض روح کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے یعنی اس قبض روح میں جو موت کے وقت ہوتا ہے دو جگہ قرآن کریم میں وہ قبض روح بھی مراد لیا ہے جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔لیکن اس جگہ قرینہ قائم کر دیا ہے۔جس سے سمجھا گیا ہے کہ حقیقی معنے توفی کے موت لئے ہیں۔اور جو نیند کی حالت میں قبض روح ہوتا ہے۔وہ بھی ہمارے مطلب کے مخالف نہیں۔کیونکہ اس کے تو یہی معنے ہیں کہ کسی وقت تک انسان سوتا ہے اور اللہ اس کی روح کو اپنے تصرف میں لے لیتا ہے اور پھر انسان جاگ اٹھتا ہے سو یہ وقوعہ ہی الگ ہے اس سے ہمارے مخالف کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔بہر حال جبکہ قرآن میں لفظ تو فی کا قبض روح کے معنوں میں ہی آیا ہے اور احادیث میں ان تمام مواضع میں جو خدا تعالیٰ کو فاعل ٹھہرا کر اس لفظ کو انسان کی نسبت استعمال کیا ہے جا بجا موت ہی معنے لیے ہیں۔تو بلاشبہ یہ لفظ قبض روح اور موت کے لئے قطعیتہ الدلالت ہو گیا۔اور بخاری جو اصح الکتب ہے اس میں بھی تفسیر آیت فلما توفیتنی کی تقریب میں متوفیک کے معنے ممیتک لکھا ہے۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ موت اور رفع میں ایک ترتیب طبعی واقع ہے ہر ایک مومن کی روح پہلے فوت ہوتی ہے پھر اس کا رفع ہوتا ہے۔اسی ترتیب طبیعی پر یہ ترتیب وضعی آیت کی دلالت کر رہی ہے کہ پہلے انی متوفیک فرمایا اور پھر بعد اس کے رافعک کہا اور اگر کوئی کہے کہ رافعک مقدم اور متوفیک مؤخر ہے یعنی رافعک آیت کے سر پر اور متوفیک فقرہ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا (ال عمران : 56) کے بعد اور بیچ میں یہ فقرہ محذوف ہے ثُمَّ مُنَزِلُكَ اِلَى الْأَرْضِ سویہ ان یہودیوں کی تحریف ہے جن پر بوجہ تحریف کے لعنت ہو چکی ہے۔کیونکہ اس صورت میں اس آیت کو اس طرح پر زیروز بر کرنا پڑے گا۔یا عیسی انــی رافعک الی السماء و مطهرك من الذين كفروا و جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ثم منزلك الى الارض و متوفیک اب فرمائیے کیا اس تحریف پر کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل مل سکتی ہے۔یہودی بھی تو ایسے ہی کام کرتے تھے کہ اپنی رائے سے اپنی تفسیروں میں بعض آیات کے معنے کرنے کے وقت بعض الفاظ کو مقدم اور بعض کو موخر کر دیتے تھے جن کی نسبت قرآن مجید میں یہ آیت موجود ہے کہ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ موَاضِعِہ ان کی تحریف ہمیشہ لفظی نہیں تھی بلکہ معنوی بھی تھی۔سو ایسی تحریفوں سے ہر یک مسلمان کو ڈرنا چاہیئے اگر کسی حدیث صحیح میں ایسی تحریف کی اجازت ہے تو بسم اللہ وہ دکھلائیے۔غرض آیت یا عیسی انی متوفیک میں اگر قرآن کریم کا عموم محاورہ ملحوظ رکھا جائے اور آیت کو تحریف سے بچایا جائے تو پھر موت کے بعد اور دوسرے معنے کیا الحق مباحثہ دہلی۔ر-خ- جلد 4 صفحہ 215-214) نکل سکتے ہیں۔