حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 788
788 دجل یہ ہے کہ اندر ناقص چیز ہواور اوپر کوئی صاف چیز ہو۔مثلاً او پرسونے کا ملمع ہواور اندر تانبا ہو۔یہ دجل ابتدائے دنیا سے چلا آتا ہے مکر وفریب سے کوئی زمانہ خالی نہیں رہا۔زرگر کیا کرتے ہیں۔جیسے دنیا کے کاموں میں دجل ہے ویسے ہی روحانی کاموں میں بھی دجل ہوتا ہے يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ (النساء: 47) بھی دجل ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 295) ان کتابوں ( توریت اور انجیل) کی نسبت قرآن مجید میں يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه لکھا ہے وہ لوگ شرح کے طور پر اپنی طرف سے بھی کچھ ملا دیا کرتے تھے۔قرآن مجید کے ہوتے ہوئے ایک مصلح کی ضرورت ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 338) پھر اسی نوجوان نے عرض کیا کہ انہوں نے یہ سوال بھی مجھ سے کیا کہ قرآن شریف تو محرف مبدل نہیں ہوا کسی کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا کہ :۔کیا خدا کی طرف سے کسی کے آنے کی ضرورت کا ایک یہی باعث ہے کہ قرآن شریف محرف مبدل ہو اور علاوہ بریں قرآن شریف کی معنوی تحریف تو کی جاتی ہے جبکہ اس میں لکھا ہے کہ مسیح مر گیا اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ زندہ آسمان پر چڑھ گیا اور تحریف کیا ہوتی ہے؟ یہ لوگ تحریف تو کر رہے ہیں اور پھر مسلمانوں کی عملی حالت بہت ہی خراب ہو رہی ہے نیچر یوں ہی کو دیکھو۔انہوں نے کیا چھوڑا ہے بہشت دوزخ کے وہ قائل نہیں۔وحی اور دعا اور معجزات کے وہ منکر ہیں انہوں نے یہودیوں کے بھی کان کاٹے یہاں تک کہ تثلیث میں بھی نجات مان لی۔یہ حالت ہو چکی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ کسی آنے والے کی ضرورت نہیں۔تعجب کی بات ہے کہ دنیا تو گناہ سے بھر گئی ہے مگران کی حالت ایسی مسخ ہوئی ہے کہ وہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ کسی مصلح کی بھی ضرورت ہے مگر عنقریب وقت آتا ہے کے خدا تعالیٰ ان کو معلوم کرائے گا اور اس کے غضب کا ہاتھ اب نکلتا آتا ہے۔زمانہ تو ایسا تھا کہ رورو کر راتیں کاٹتے مگر ان کی شوخی سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے ہی بد بخت ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 398) نور دل جاتا رہا اک رسم دیں کی رہ گئی پھر بھی کہتے ہیں کہ کوئی مصلح دیں کیا بکار راگ وہ گاتے ہیں جس کو آسماں گا تا نہیں وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں برخلاف شہریار (براہین احمدیہ - ر- خ - جلد 21 صفحہ 132