حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 780 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 780

780 اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا (التحریم: 13) کے متعلق اس اعتراض کے جواب میں کہ یہ تہذیب کے خلاف ہے فرمایا کہ جو خدا تعالیٰ کو خالق سمجھتے ہیں تو کیا اس خلق کو لغو اور باطل قرار دیتے ہیں۔جب اس نے ان اعضاء کو خلق کیا اس وقت تہذیب نہ تھی۔خالق مانتے ہیں اور خلق پر اعتراض نہیں کرتے ہیں تو پھر اس ارشاد پر اعتراض کیوں؟ دیکھنا یہ ہے کہ زبان عرب میں اس لفظ کا استعمال ان کے عرف کے نزدیک کوئی خلاف تہذیب امر ہے جب نہیں تو دوسری زبان والوں کا حق نہیں کہ اپنے عرف کے لحاظ سے اسے خلاف تہذیب ٹھہرائیں۔ہر سوسائٹی کے عرفی الفاظ اور مصطلحات الگ الگ ہیں اور تہذیب اور خلاف تہذیب امورا لگ۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 460) لغت عرب اور محاورہ عرب کا کامل علم انبیاء کا معجزہ ہے پس اغراض نفسانیہ کے ساتھ زبان پر کیونکر احاطہ ہو سکے اور معارف قرآنیہ کیونکر حاصل ہو سکیں اور لغت عرب جو صرف نحو کی اصل کنجی ہے وہ ایک ایسا نا پیدا کنار دریا ہے جو اسکی نسبت امام شافعی رحمتہ اللہ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا نَبِى یعنی اس زبان کو اور اسکے انواع اقسام کے محاورات کو بجز نبی کے اور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کر سکتا۔اس قول سے بھی ثابت ہوا کہ اس زبان پر ہر ایک پہلو سے قدرت حاصل کرنا ہر ایک کا کام نہیں بلکہ اس پر پورا احاطہ کرنا مجزات انبیاء علیہم السلام سے ہے۔( نزول اسیح - رخ- جلد 18 صفحہ 436,437) آسمان اصطلاحات و محاورات قرآن کی چند امثال قرآن شریف کی اصطلاح کی رو سے جو فضا یعنی پول اُوپر کی طرف ہے جس میں بادل جمع ہو کر مینہ برستا ہے اس کا نام بھی آسمان ہے جس کو ہندی میں اکاش کہتے ہیں۔(نسیم دعوت۔رخ۔جلد 19 صفحہ 412 حاشیہ) اسلام اِنَّ الدِّينَ عِنْدِ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ هُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ، وَمَنْ يَكْفُرُ بِايَتِ اللهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ۔(ال عمران:20) واضح ہو کہ لغت عرب میں اسلام اس کو کہتے ہیں کہ بطور پیشگی ایک چیز کا مول دیا جائے اور یا یہ کہ کسی کو اپنا کام سو نہیں اور یا یہ کہ صلح کے طالب ہوں اور یا یہ کہ کسی امر یا خصومت کو چھوڑ دیں۔اور اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بلی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لیے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لیے وقف کر د یوے۔اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لیے قائم ہو جائے۔اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیوے۔مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔