حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 733 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 733

733 قرآن کریم کے دقائق عالیہ خدا تعالیٰ کے خاص بندوں سے مخصوص ہیں فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ، وَ إِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ o إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَبٍ مَّكْنُونٍ O لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ) (الواقعه : 76-80) میں مواقع النجوم کی قسم کھاتا ہوں اور یہ بڑی قسم ہے اگر تمہیں علم ہوا اور قسم اس بات پر ہے کہ یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اور اس کی تعلیمات سنت اللہ کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تمام تعلیمات کتاب مکنون یعنی صحیفہ فطرت میں لکھی ہوئی ہیں اور اس کے دقائق کو وہی لوگ معلوم کرتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں اس جگہ اللہ جل شانہ نے مواقع النجوم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ کیا کہ جیسے ستارے نہایت بلندی کی وجہ سے نقطوں کی طرح نظر آتے ہیں مگر وہ اصل میں نقطوں کی طرح نہیں بلکہ بہت بڑے ہیں ایسا ہی قرآن کریم اپنی نہایت بلندی اور علق شان کی وجہ سے کم نظروں کے آنکھوں سے مخفی ہے اور جن کی غبار دور ہو جاوے وہ ان کو دیکھتے ہیں اور اس آیت میں اللہ جل شانہ نے قرآن کریم کے دقائق عالیہ کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں سے مخصوص ہیں جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے پاک کرتا ہے اور یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ اگر علم قرآن مخصوص بندوں سے خاص کیا گیا ہے تو دوسروں سے نافرمانی کی حالت میں کیونکر مواخذہ ہوگا کیونکہ قرآن کریم کی وہ تعلیم جو مدار ایمان ہے وہ عام فہم ہے جس کو ایک کا فر بھی سمجھ سکتا ہے اور ایسی نہیں ہے کہ کسی پڑھنے والے سے مخفی رہ سکے اور اگر وہ عام فہم نہ ہوتی تو کارخانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا۔مگر حقائق معارف چونکہ مدار ایمان نہیں صرف زیادت عرفان کے موجب ہیں اس لئے صرف خواص کو اس کو چہ میں راہ دیا کیونکہ وہ در اصل مواہب اور روحانی نعمتیں ہیں جو ایمان کے بعد کامل الایمان لوگوں کو ملا کرتی ہیں۔کرامات الصادقین - ر-خ- جلد 7 صفحہ 52-53) میں قسم کھاتا ہوں مطالع اور مناظر نجوم کی اور یہ تم ایک بڑی قسم ہے۔اگر تمہیں حقیقت پر اطلاع ہو کہ یہ قرآن ایک بزرگ اور عظیم الشان کتاب ہے اور اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاک باطن ہیں اور اس قسم کی مناسبت اس مقام میں یہ ہے کہ قرآن کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ کریم ہے یعنی روحانی بزرگیوں پر مشتمل ہے اور باعث نہایت بلند اور رفیع دقائق حقائق کے بعض کو تاہ بینوں کی نظروں میں اسی وجہ سے چھوٹا معلوم ہوتا ہے جس وجہ سے ستارے چھوٹے اور نقطوں سے معلوم ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں کہ درحقیقت وہ نقطوں کی مانند ہیں بلکہ چونکہ مقام ان کا نہایت اعلیٰ وارفع ہے اس لئے جو نظریں قاصر ہیں ان کی اصل ضخامت کو معلوم نہیں کر سکتیں۔جنگ مقدس - ر- خ - جلد 6 صفحہ 87)