حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 703
703 الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا، وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ۔(الملک: 3) دنیا کی کامیابیاں ابتلاء سے خالی نہیں ہوتی ہیں۔قرآن شریف میں آیا ہے خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ یعنی موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ ہم تمہیں آزمائیں۔کامیابی اور نا کامی بھی زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے۔کامیابی ایک قسم کی زندگی ہوتی ہے۔جب کسی کو اپنے کامیاب ہونے کی خبر پہنچتی ہے تو اس میں جان پڑ جاتی ہے اور گویا نئی زندگی ملتی ہے اور اگر نا کامی کی خبر آ جائے تو زندہ ہی مر جاتا ہے اور بسا اوقات بہت سے کمزور دل آدمی ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحه 97-98) مغضوب اور ضال۔یہودی اور عیسائی ضالین سے مراد صرف گمراہ نہیں بلکہ وہ عیسائی مراد ہیں جو افراط محبت کی وجہ سے حضرت عیسی کی شان میں غلو کرتے ہیں۔کیونکہ ضلالت کے یہ بھی معنے ہیں کہ افراط محبت سے ایک شخص کو ایسا اختیار کیا جائے کہ دوسرے کا عزت کے ساتھ نام سننے کی بھی برداشت نہ رہے جیسا کہ اس آیت میں بھی یہی معنے مراد ہیں کہ اِنَّكَ لَفِی ضَلَالِكَ الْقَدِيم (یوسف : 96) اور المغضوب علیھم سے وہ علماء یہودی مراد ہیں جنہوں سے شدت عداوت کی وجہ سے حضرت عیسلے کی نسبت یہ بھی روانہ رکھا کہ انکو مومن قرار دیا جائے بلکہ کافر کہا اور واجب القتل قرار دیا۔اور مغضوب علیہ وہ شدید الغضب انسان ہوتا ہے جس کے غضب کے غلق پر دوسرے کو غضب آوے۔اور یہ دونوں لفظ باہم مقابل واقع ہیں۔یعنی ضالین وہ ہیں جنہوں نے افراط محبت سے حضرت عیسی کو خدا بنایا اور المغضوب علیھم وہ یہودی ہیں جنہوں نے خدا کے مسیح کو افراط عداوت سے کا فرقرار دیا اس لئے مسلمانوں کو سورۃ فاتحہ میں ڈرایا گیا اور اشارہ کیا گیا کہ تمہیں یہ دونوں امتحان پیش آئینگے۔مسیح موعود آئیگا اور پہلے مسیح کی طرح اسکی بھی تکفیر کی جائینگی اور ضالین یعنی عیسائیوں کا غلبہ بھی کمال کو پہنچ جائیگا جو حضرت عیسی کو خدا کہتے ہیں تم ان دونوں فتنوں سے اپنے تئیں بچاؤ اور بچنے کیلئے نمازوں میں دعائیں کرتے رہو۔(تحفہ گولڑویہ جلد 17 صفحہ 269 حاشیه در حاشیه ) غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد مولوی ہیں کیونکہ ایسی باتوں میں اول نشانہ مولوی ہی ہوا کرتے ہیں۔دنیا داروں کو تو دین سے تعلق ہی کم ہوتا ہے جب سے یہ سلسلہ نبوت کا جاری ہے یہ اتفاق کبھی نہیں ہوا کہ مولویوں کے پاس جس قدر ذخیرہ رطب و یابس کا ہو وہ حرف بحرف پورا ہوا ہو۔دیکھ لوان ہی باتوں سے ابتک یہود نے نہ میسیج کو مانا نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو۔حق کو قبول کرنا ایک نعمت الہی ہے یہ ہر ایک کو نہیں ملا کرتی اس لیے ہمیشہ دعا کرنی چاہیئے کہ خدا تعالیٰ اسے قبول کرنے کی توفیق عطا کرے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 297)