حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 701 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 701

701 يبَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوَاتِكُمْ وَرِيْشًا وَ لِبَاسُ التَّقْوى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ ايَتِ اللهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ۔(الاعراف: 27) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے چنانچہ لِبَاسُ التَّقْوى قرآن شریف کا لفظ ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقوی یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلووں پر تا بمقد ور کار بند ہو جائے۔براهین احمدیہ - رخ - جلد 21 صفحہ 210) مہدی۔صرف خدا تعالیٰ ہی سے علم دین حاصل کرنے والا ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مہدی تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَوَجَدَكَ ضَالًا فَهَدَى (الضحی : 8) اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا۔مگر حضرت عیسے اور حضرت موسے مکتبوں میں بیٹھے تھے۔اور حضرت عیسی نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم نے کسی استاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی استاد ہوا۔اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اِقْرَءُ کہا۔یعنی پڑھ۔اور کسی نے نہیں کہا۔اس لئے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے۔سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا۔سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کریگا۔اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔سو میں حلقاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے۔اور اسرار دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے۔موت کے معانی الصد ایام اس۔رخ - جلد 14 صفحہ 394-393) ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ۔(المومنون: 16) موت کا لفظ قرآن کریم میں ذوالوجوہ ہے۔کافر کا نام بھی مردہ رکھا ہے اور ہوا و ہوس سے مرنا بھی ایک قسم کی موت ہے اور قریب الموت کا نام بھی میت ہے اور یہی تینوں وجوہ استعمال حیات میں بھی پائی جاتی یعنی حیات بھی تین قسم کی ہیں۔(ازالہ اوھام - رخ - جلد 3 صفحہ 445)