حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 697
697 خُذُوهُ فَعَلُوهُ۔ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ (الحاقة: 31-33) اس جہنمی کو پکڑو۔اس کی گردن میں طوق ڈالو۔پھر دوزخ میں اس کو جلاؤ۔پھر ایسی زنجیر میں جو پیمائش میں ستر گز ہے اس کو داخل کرو۔جاننا چاہیئے کہ ان آیات میں ظاہر فرمایا کہ دنیا کا روحانی عذاب علم معاد میں جسمانی طور پر نمودار ہو گا چنانچہ طوق گردن دنیا کی خواہشوں کا جس نے انسان کے سرکوزمین کی طرف جھکا رکھا تھا وہ عالم ثانی میں ظاہری صورت میں نظر آ جائے گا اور ایسا ہی دنیا کی گرفتاریوں کی زنجیر پیروں میں پڑی ہوئی دکھائی دے گی اور دنیا کی خواہشوں کی سوزشوں کی آگ ظاہر ظاہر بھڑ کی ہوئی نظر آئے گی۔فاسق انسان دنیا کی زندگی میں ہوا و ہوس کا ایک جہنم اپنے اندر رکھتا ہے اور ناکامیوں میں اس جہنم کی سوزشوں کا احساس کرتا ہے۔پس جبکہ اپنی فانی شہوات سے دور ڈالا جائے گا اور ہمیشہ کی ناامیدی طاری ہوگی خدائے تعالیٰ ان حسرتوں کو جسمانی آگ کے طور پر اس پر ظاہر کرے گا جیسا کہ فرماتا ہے۔وَحِيْل بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ (سبا: 55) یعنی ان میں اور ان کی خواہشوں کی چیزوں میں جدائی ڈالی جائے گی اور یہی عذاب کی جڑھ ہوگی اور پھر جو فر مایا کہ ستر گز کی زنجیر میں اس کو داخل کرو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک فاسق بسا اوقات ستر برس کی عمر پالیتا ہے بلکہ کئی دفعہ اس دنیا میں اس کو ایسے برس بھی ملتے ہیں کہ خوردسالی کی عمر اور پیر فرتوت ہونے کی عمرا الگ کر کے پھر اس قد رصاف اور خالص حصہ عمر کا اس کو ملتا ہے جو عقلمندی اور محنت اور کام کے لائق ہوتا ہے لیکن وہ بد بخت اپنی عمدہ زندگی کے ستر برس دنیا کی گرفتاریوں میں گزارتا ہے اور اس زنجیر سے آزاد ہونا نہیں چاہتا۔سوخدائے تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ وہی ستر برس جو اس نے گرفتاری دنیا میں گزارے تھے عالم معاد میں زنجیر کی طرح متمثل ہو جائیں گے جوستر گز کی ہوگی۔ہر ایک گز بجائے ایک سال کے ہے۔اس جگہ یاد رکھنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف سے بندہ پر کوئی مصیبت نہیں ڈالتا بلکہ وہ انسان کے اپنے ہی بُرے کام اس کے آگے رکھ دیتا ہے۔( اسلامی اصول کی فلاسفی۔رخ۔جلد 10 صفحہ 409-410)