حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 673
673 دیکھو۔قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کو قرض حسنہ دو۔اس وقت بھی بعض نادان لوگ کہنے لگ گئے تھے کہ اب خدا مفلس اور محتاج ہو گیا ہے۔خوب یا درکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ایسے الفاظ استعمال نہ کرتا۔اصلیت دیکھنی چاہیئے۔قرض کا مفہوم تو صرف اس قدر ہے کہ وہ یے جس کے واپس دینے کا وعدہ ہو۔ضروری نہیں کہ لینے والا مفلس بھی ہو۔ایسی باتیں ہر کتاب میں پائی جاتی ہیں۔حدیث شریف میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کو لوگوں کو کہے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔میں بیمار تھا تم نے بیمار پرسی نہ کی۔وغیرہ وغیرہ یہ تو سب استعارات ہوتے ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 315-314) خدا نے قرآن کا نام مال رکھا ہے اور حکمت کا نام بھی مال رکھا ہے جیسا کہ فرماتا ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا۔مفسر لکھتے ہیں کہ اس کے معنے ہیں مَالًا كَثِيرًا۔لغت میں خیر کے معنے مال کے لکھے ہیں اور ایک اور حدیث میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بڑی دعوت کی اور ہر ایک قسم کا کھانا پکایا تو بعض کھانا کھانے کے لیے آئے انہوں نے کھانا کھا کر حظ اٹھایا اور بعض نے اس دعوت سے انکار کیا وہ بے نصیب رہے۔اب دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پلا ؤ اور قورمہ وغیرہ پکایا تھا یا روحانی کھانے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ انبیاء اکثر روحانی امور کو طرح طرح کے پیرایوں میں بیان فرمایا کرتے ہیں اور نفسانی آدمی ان کو جسمانی امور کی طرف لے جاتے ہیں۔بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ مسیح آ کر درہم و دینار بہت سے تقسیم کرے گا کہ علماء وغیرہ کے گھر سونے چاندی سے بھر جائیں گے لیکن اس کا کہاں تذکرہ ہے کہ وہ لوگ جو روحانی طور پر بھوکے پیاسے ہونگے ان کی اسی طور سے پوری حاجت براری کرے گا۔پس اگر یہ تذکرہ کسی اور جگہ نہیں تو یقیناً یاد رکھو کہ یہ وہی تذکرہ ہے جو استعارہ کے رنگ پر بیان کیا گیا ہے۔( مکتوبات احمد محررہ 22 جولائی 1900 از قادیان مندرجہ الحکم جلد 4 نمبر 27 مورخہ 23 جولائی 1900 صفحہ 3) وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطَّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِى فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي۔(المائده: 111) اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسی نے اپنار فیق بنایا گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خا کہ کھینچا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 255 حاشیہ )