حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 671 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 671

671 الهام وحی رویاء و کشوف پر اکثر استعارات غالب ہوتے ہیں وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَا آی حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوْحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ۔(شوری: 52) وحی وراء الحجاب کی خدا تعالیٰ کی کلام میں ہزاروں مثالیں ہیں اس سے انکار کرنا منصف کا کام نہیں۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دوجھوٹے نبیوں کو دوکڑوں کی شکل میں دیکھنا اس قسم کی وحی تھی۔گائیں ذبح ہوتے دیکھنا بھی اسی قسم کی وحی تھی۔لمبے ہاتھوں والی بیوی کا سب بیویوں سے پہلے فوت ہو نا دیکھنا بھی اسی قسم کی وحی تھی اور ملا کی نبی کی وحی میں یہ ظاہر کیا جانا کہ ایلیاء نبی دوبارہ آئے گا اور یہود کی بستیوں میں سے فلاں مقام پر نازل ہوگا یہ بھی اسی قسم کی جی تھی اور مدینہ کی وباء کا عورت پراگندہ شکل کے طور پر نظر آنا یہ بھی اس قسم کی وحی تھی۔اسی طرح دجال بھی جو ایک دجل کرنے والا گروہ ہے ایک شخص مقرر کی طرح نظر آیا یہ بھی اس قسم کی وحی ہے۔نبیوں کی وحیوں میں ہزاروں ایسے نمونے ہیں جن میں روحانی امور جسمانی رنگ میں نظر آئے یا ایک جماعت ایک شخص کی صورت میں نظر آئی۔تمام نوع انسان کے لئے جس میں انبیاء علیہم السلام بھی داخل ہیں خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ الہام اور وحی اور رویا اور کشف پراکثر استعارات غالب ہوتے ہیں مثلاً دو چار سو آدمی جمع کر کے ان کی خوا ہیں سنو تو اکثر ان میں استعارات ہوں گے۔کسی نے سانپ دیکھا ہوگا کسی نے بھیڑیا اور کسی نے سیلاب اور کسی نے باغ اور کسی نے پھل اور کسی نے آگ اور تمام یہ مور قابل تاویل ہوں گے۔حدیثوں میں ہے کہ قبر میں عمل صالح اور غیر صالح انسان کی صورت پر دکھائی دیتے ہیں سو یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس سے تمام تناقض دور ہوتے ہیں اور حقیقت کھلتی ہے مبارک وہ جو اس میں غور کریں۔(ایام الصلح۔رخ۔جلد 14 صفحہ 277) قبل اس کے کہ اس آیت کے حل کی طرف ہم متوجہ ہوں ہم عملا دیکھتے ہیں کہ تین ہی طریقے ہیں خدا تعالیٰ کے کلام کرنے کے چوتھا کوئی نہیں (1) رویا ( 2 ) مکاشفہ (3) وحی۔۔۔من ورای حجاب سے مرادر دیا کا ذریعہ ہے من ورای حجاب کے معنی یہ ہیں کہ اس پر استعارے غالب رہتے ہیں جو حجاب کا رنگ رکھتے ہیں اور یہی رویا کی ہیئت ہے۔يُرْسِلَ رَسُولًا سے مراد مکاشفہ ہے۔رسول کا تمثل بھی مکاشفہ میں ہی ہوتا ہے اور مکاشفہ کی حقیقت یہی ہے کہ وہ تمثلات ہی کا سلسلہ ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 381)