حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 670
670 وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَرَزَقْنَهُمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلُنهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيَّلًا۔(بنی اسرائیل: 71) وَحَمَلْتَهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ یعنی اٹھا یا ہم نے ان کو جنگلوں میں اور دریاؤں میں۔اب کیا اس کے یہ معنے کرنے چاہئے کہ حقیقت میں خدائے تعالیٰ اپنی گود میں لے کر اٹھائے پھرا۔سواسی طرح ملا یک کے پروں پر ہاتھ رکھنا حقیقت پر محمول نہیں۔(ازالہ اوھام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 476) قرآن شریف میں ہمیں صاف تا کید فرمائی گئی ہے آیات متشابہات یعنی جن کا سمجھنا عقل پر مشتبہ رہے ان کے ظاہری معانی پر ہرگز زور نہیں دینا چاہیئے در حقیقت یہی مطلب اور مراد خدا تعالیٰ کی ہے۔بلکہ اس پر ایمان لانا چاہئے اور اس کی اصل حقیقت کو حوالہ بخدا کر دینا چاہیئے۔اب دیکھو کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی کامل تعلیم ہے کہ اسی برکت سے ہم ہزار ہا ایسے جھگڑوں سے نجات پاسکتے ہیں جو قصص ماضیہ یا پیشگوئیوں کی نسبت اس زمانہ میں پیدا ہورہے ہیں کیونکہ ہر یک اعتراض خلاف عقل معنے کو حقیقت پر حمل کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔پس جبکہ ہم نے اس ضد کو ہی چھوڑ دیا اور اپنے مولیٰ کی ہدایت کے موافق تمام متشابہات میں جن کا سمجھنا عقل پر مشتبہ رہتا ہے۔یہی اصول مقرر کر رکھا کہ ان پر اجمالی طور پر ایمان لاویں اور ان کی اصل حقیقت حوالہ بخدا کریں تو پھر اعتراض کے لئے کوئی بنیاد پیدا نہیں ہوسکتی۔(ازالہ اوہام - ر- خ - جلد 3 صفحہ 252-251) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ۔(الانعام: 104) اس جگہ بظاہر انکار دیدار ہے اور اس کے مخالف یہ آیت ہے اِلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (القيامة : 24) اس سے دیدار ثابت ہوتا ہے۔سوسیح اور بیٹی کے کلمات میں اسی قسم کا تناقض ہے جو دراصل تناقض نہیں ایک نے مجاز کو ذہن میں رکھا اور دوسرے نے حقیقت کو اس لیے کچھ تناقض نہ ہوا۔(ضمیمہ تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 463 حاشیہ )