حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 669 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 669

669 حقیقت و استعاره پھر فرمایا: ”انبیاء علیہم السلام کے آنے کے وقت لوگوں کے حالات دو قسم کے ہوتے ہیں۔وہ استعارات کو حقیقت پر محمول کرنا چاہتے ہیں اور حقیقت کو استعارہ بنانا چاہتے ہیں۔یہی مصیبت اب ان کو پیش آئی ہے۔یہ کوئی ایسا دجال دیکھنا چاہتے ہیں۔جس کی آنکھ در حقیقت باہر نکلی ہوئی ہو اور پورے ستر گز کا اس کا گدھا ہو اور آسمان سے حضرت عیسی کبوتر کی طرح منڈلاتے ہوئے اتریں۔یہ کبھی ہونا ہی نہ تھا۔یہودیوں کو بھی حضرت عیسی کے وقت یہی مصیبت پیش آئی۔وہ بھی یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ مسیح سے پہلے جیسا کہ ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا ہے آسمان سے ایلیا اترے گا چنانچہ جب صحیح آیا تو انھوں نے یہی اعتراض کیا۔مگر مسیح نے ان کو جواب میں یہی کہا کہ ایلیا آ چکا اور وہ یہی یحیی بن زکریا ہے۔یہودی سمجھتے تھے کہ خود ایلیا آئے گا۔اس لیے وہ منکر ہو گئے۔چنانچہ ایک یہودی کی کتاب میں نے منگوائی تھی۔اس میں وہ صاف لکھتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ہم سے مواخذہ کرے گا، تو ہم ملا کی نبی کی کتاب کھول کر رکھ دیں گے اس میں تو صاف لکھا ہوا ہے کہ ایلیا پہلے آسمان سے آئے گا۔یہ کہاں لکھا ہے کہ وہ بیٹی ہی ہو گا۔اب ہمارا دعوئی تو حضرت مسیح کی ہائیکورٹ سے فیصلہ ہو گیا کہ جس کے دوبارہ آنے کا وعدہ ہوتا ہے اس کی آمد ثانی کا یہ رنگ ہوتا ہے اس کی خوبو اور خواص پر کوئی دوسرا آتا ہے۔یہی دھوکا اور غلطی ہمارے علماء کو لگی ہے۔یہ اصل میں ایک استعارہ ہے۔جس کو انھوں نے حقیقت پر حمل کر لیا ہے۔ایسا ہی دجال اور اس کے دوسرے لوازمات کو حقیقت بنایا۔عیسائیوں نے بھی دھوکا کھایا۔حضرت عیسی نے اپنے بعد فارقلیط کے آنے کی پیشگوئی کی تھی۔عیسائیوں نے روح القدس مراد لی حالانکہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد تھے۔یہ لفظ فارقلیط فارق اور لیسط سے مرکب ہے۔لیط شیطان کو کہتے ہیں۔(اور فارق کے معنی ہیں جدا کر نیوالا یعنی شیطان کو دور کرنے والا۔ناقل ) غرض یہ بڑی خطرناک غلطی ہے جو انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے وقت لوگ کھاتے ہیں کہ استعارات کو حقیقت پر اور حقیقت کو استعارات پر محمول کر لیتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 586)