حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 656 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 656

656 اوى وَإِذَا عُتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ فَا وا إِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرُ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ رَّ۔م مِّنْ رَّحْمَتِهِ وَيُهَتِى لَكُمْ مِّنْ أَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا۔(الكهف : 17) قرآنی آیات سے پتہ چلتا ہے کہ اولی کا لفظ یہ چاہتا ہے کہ اول کوئی مصیبت واقع ہو۔اسی طرح الہام إِنَّهُ اوَى الْقَرْيَةَ چاہتا ہے کہ ابتداء میں خوفناک صورتیں ہوں۔اصحاب کہف کی نسبت بھی یہ ہے فاوا اِلَی الْكَهْفِ اور ایک اور جگہ اويُهُمَا إِلى رَبُوَةٍ ہے۔ان تمام مقامات سے یہی مطلب ہے کہ قبل اس کے کہ خدا تعالی آرام دیوے مصیبت اور خوف کا نظارہ پیدا ہوگا۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 531) اوی کا لفظ عربی زبان میں اس پناہ دینے کو کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی حد تک مصیبت رسیدہ ہو کر پھر امن میں آجاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيمًا فَاوَى (الضحی : 7 ) یعنی خدا نے تجھے یتیم پایا اور یتیمی کے مصائب میں تجھے مبتلا دیکھا پھر پناہ دی اور جیسا کہ فرماتا ہے و اونهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مُعِينٍ (المومنون : 51) یعنی ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو بعد اس کے جو یہودیوں نے ان پر ظلم کیا اور حضرت عیسی کو سولی دینا چاہا۔ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو پناہ دی اور دونوں کو ایک ایسے پہاڑ پر پہنچادیا جوسب پہاڑوں سے اونچا تھا یعنی کشمیر کا پہاڑ جس میں خوشگوار پانی تھا اور بڑی آسائش اور آرام کی جگہ تھی۔اور جیسا کہ سورۃ الکہف میں یہ آیت ہے فاوا السی الْكَهْفِ يَنْشُرُ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ رَّحْمَتِه۔(الجزو نمبر 15) یعنی غار کی پناہ میں آ جاؤ۔اس طرح پر خدا اپنی رحمت تم پر پھیلائے گا یعنی تم ظالم بادشاہ کی ایذا سے نجات پاؤ گے۔غرض اولی کا لفظ ہمیشہ اس موقعہ پر آتا ہے کہ جب ایک شخص کسی حد تک کوئی مصیبت اٹھا کر پھر امن میں داخل کیا جاتا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ۔جلد 22 صفحہ 243-244) ظالم كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ اتَتْ أكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمُ مِّنْهُ شَيْئًا وَّ فَجَّرُنَا خِللَهُمَا نَهَرًا۔(الكهف: 34) لغت کی رو سے بھی ثابت ہے کہ ظالم کا لفظ بغیر کسی اور لحاظ کے فقط کم کرنے کے لئے بھی آیا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا (الكهف: 34) أَى وَ لَمْ تَنْقُصُ اور خدا تعالیٰ کی راہ میں نفس کے جذبات کو کم کرنا بلا شبہ ان معنوں کی رو سے ایک ظلم ہے۔( آئینہ کمالات اسلام -ر خ- جلد 5 صفحہ 137-136 )