حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 652
652 قرآن کریم نے جو سورہ فاتحہ کو الحمد لله رب العلمين الرحمن الرحيم۔مالک یوم الدین الله اسماء سے شروع کیا تو اس میں کیا راز تھا۔چونکہ بعض تو میں اللہ تعالیٰ کی ہستی پر اس کی صفات رب۔رحیم۔مالک یوم الدین سے منکر تھیں اس لیے اس طرز کو لیا یہ یا درکھو کہ جس نے قرآن کریم کے الفاظ اور فقرات کو جو قانونی ہیں ہاتھ میں نہیں لیا اس نے قرآن کا قدر نہیں سمجھا۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 388-389) جس ذات کامل نے انسان اور اس کے خیالات کو پیدا کیا اسی نے ان خیالات کے ادا کرنے کے لئے قدیم سے وہ مفردات بھی پیدا کر دیئے اور ہما را دلی انصاف اس بات کے قبول کرنے کے لئے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اگر یہ خصوصیت کسی زبان میں پائی جائے کہ وہ زبان انسانی خیالات کے قدوقامت کے موافق مفردات کا خوبصورت پیرا یہ اپنے اندر طیار رکھتی ہے اور ہر یک بار یک فرق جو افعال میں پایا جاتا ہے وہی باریک فرق اقوال کے ذریعہ سے دکھاتی ہے اور اس کے مفردات خیالات کے تمام حاجتوں کے متکفل ہیں تو وہ زبان بلا شبہ الہامی ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو اس نے انسان کو ہزارہا طور کے خیالات ظاہر کرنے کے لئے مستعد پیدا کیا ہے۔پس ضرور تھا کہ انہیں خیالات کے اندازہ کے موافق اس کو ذخیرہ قولی مفردات بھی دیا جاتا تا خدا تعالے کا قول اور فعل ایک ہی مرتبہ پر ہولیکن حاجت کے وقت ترکیب سے کام لینا یہ بات کسی خاص زبان سے خصوصیت نہیں رکھتی۔ہزار ہاز بانوں پر یہ عام آفت اور نقص در پیش ہے کہ وہ مفردات کی جگہ مرکبات سے کام لیتے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ ضرورتوں کے وقت وہ مرکبات انسانوں نے خود بنالئے ہیں۔پس جو زبان ان آفتوں سے محفوظ ہوگی اور اپنی ذات میں مفردات سے کام نکالنے کی خصوصیت رکھے گی اور اپنے اقوال کو خدا تعالیٰ کے فعل کے مطابق یعنی خیالات کے جوشوں کے مطابق اور ان کے ہموزن دکھلائے گی۔بلا شبہ وہ ایک خارق العادات مرتبہ پر ہو کر اور تمام زبانوں کی نسبت ایک خصوصیت پیدا کر کے اس لائق ہو جائے گی کہ اس کو اصل الہامی زبان اور فطرت اللہ کہا جائے۔( من الرحمن -ر-خ-جلد 9 صفحہ 141) ادب جاہلیہ اور لغت قرآن علاوہ اس کے اس ملک میں صرفی نحوی قواعد سے بھی لوگوں کو اچھی طرح واقفیت نہیں اصل بات یہ ہے کہ جیتک زبان عرب میں پورا پورا توغل نہ ہو اور جاہلیت کے تمام اشعار نظر سے نہ گذر جائیں اور کتب قدیمہ مبسوطہ لغت جو محاورات عرب پر مشتمل ہیں غور سے نہ پڑھے جائیں اور وسعت علمی کا دائرہ کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک عربی محاورات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا اور نہ انکی صرف اور نحو کا باستیفاء علم ہوسکتا ہے ایک نادان نکتہ چینی کرتا ہے کہ فلاں صلہ درست نہیں یا ترکیب غلط ہے اور اسی قسم کا صلہ اور اس قسم کی ترکیب اور اسی قسم کا صیغہ قدیم جاہلیت کے کسی شعر میں نکل آتا ہے اور اس ملک میں جو لوگ علماء کہلاتے ہیں بڑی دوڑ ان کی قاموس تک ہے حالانکہ قاموس کی تحقیق پر بہت جرح ہوئی نہیں اور کئی مقامات میں اس نے دھوکہ کھایا ہے۔یہ بیچارے جو علماء یا مولوی کہلاتے ہیں انکو تو قدیم معتبر کتابوں کے نام بھی یاد نہیں اور نہ ان کو تحقیق اور تو غل زبان عربی سے کچھ دلچسپی۔ی ہے۔۔مشکوۃ یا ہدا یہ پڑھ لیا تو مولوی کہلائے اور پھر وہ بدہ پیٹ کیلئے وعظ کرنا شروع کر دیا۔( نزول ایج - ر - خ - جلد 18 صفحہ 436)