حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 643 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 643

643 ہوسکتی ہے جیسا کہ انسان کے وجود کی دوسری بناوٹ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان صفات سے موصوف صرف عربی ہی ہے اور اس کی خدمت یہ ہے کہ وہ معرفت باری تک پہنچانے کے لئے اپنے اندر ایک ایسی طاقت رکھتی ہے جو الہیات کے ایک معنوی تقسیم کو جو قانون قدرت میں پائی جاتی ہے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے مفردات میں دکھاتی ہے اور صفات الہیہ کے نازک اور باریک فرقوں کو جو صحیفہ فطرت میں نمودار ہیں اور ایسا ہی تو حید کے دلائل کو جو اسی صحیفہ سے مترشح ہیں اور خدا تعالیٰ کے انواع اقسام کے ارادوں کو جو اس کے بندوں سے متعلق اور صحیفہ قدرت میں نمایاں ہیں ایسے طور سے ظاہر کر دیتی ہے کہ گویا ان کا ایک نہایت لطیف نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیتی ہے اور ان دقیق امتیازوں کو جو خدا تعالیٰ کے اسماء اور صفات اور افعال اور ارادوں میں واقع ہیں جن کی شہادت اس کا قانون قدرت دے رہا ہے ایسی صفائی سے دکھا دیتی ہے کہ گویا ان کی تصویر کو آنکھوں کے سامنے لے آتی ہے۔چنانچہ یہ بات ببداہت معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے صفات اور افعال اور ارادوں کی چہرہ نمائی اور نیز اپنے فعل اور قول کے تطبیق کے لئے زبان عربی کو ایک متکفل خادم پیدا کیا ہے اور ازل سے یہی چاہا ہے کہ الہیات کے سر مکتوم اور مقفل کے لئے یہی زبان کنجی ہو۔من الرحمن - ر - خ - جلد 9 صفحہ 147-146 حاشیہ ) عربی زبان۔حب رسول اور حب قرآن کے لئے ایک معیار ہے و من ادعى انه من الواصلين والفقراء العرفاء و ليس من عارفي هذه اللسان كالادباء۔ففقره ليس ففر سيد الكونين۔بل هو سواد الوجه فى الدارين۔ولاتعجب بهذا البيان۔ولاتغضب قبل العرفان۔فان الذي يداعى محبة الفرقان۔كيف يصدء ذهنه في هذه اللسان۔و كيف تقاصر مع دعاوى المحبة وشوق الجنان۔وكيف يمكن ان لايتجلى لقلبه لطف الرحمن۔ولا يعلمه الله لسان نبيه بالامتنان۔ثم انها معيار لحب الرسول و الفرقان۔فان الذي احب العربية فبمحب الرسول و الفرقان احبها۔و من ابغضها فبغض الرسول و الفرقان ابغضها۔فان المحبين يعرفون بالعلامات و ادنى درجة الحب ان تحثك المضاهات۔حتى توثر طرق المحبوب وتجعلها من المحبوبات و من لم يعرف هذا الذوق فانه من الكافرين في مشرب العاشقين و من احب الفرقان و سيدنا خاتم الانبياء كما هو شرط المحبة والوفاء۔فما اظن ان يبقى في العربية كالجهلاء۔بل يقوده حبه الى اعلى مراتب الكمال۔و يسبق كل سابق في المقال۔ويصير نطقه كالدرة البيضاء۔و يضمخ كلامه بطيب عجیب و يودع انواع الصفاء۔ففكر كالمحبين۔ولولا الحب لما اعطيتها۔فمن الحب لقيتها۔فهذا آية حبى من ارحم الراحمين۔و الحمد لله على ما اعطى و هو خير المنعمين۔(انجام آتھم۔ر۔خ۔جلد 11 صفحہ 265-266)