حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 635
635 حج کمال سلوک ہے حج سے صرف اتنا ہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلا جاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کر کے چلا آوے اصل بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے سمجھنا چاہیئے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشق باللہ اور محبت الہی ایسی پیدا ہو جاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان و مال کی پروا ہو نہ عزیز واقارب سے جدائی کا فکر ہو۔جیسے عاشق اور محبت اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو طیار ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھا ہے یہ ایک باریک نکتہ ہے جیسا بیت اللہ ہے ایک اس سے بھی اوپر ہے جب تک اس کا طواف نہ کرو یہ طواف مفید نہیں اور ثواب نہیں۔اس کے طواف کرنے والوں کی بھی یہی حالت ہونی چاہیئے جو یہاں دیکھتے جو کہ ایک مختصر سا کپڑا رکھ لیتے ہیں اسی طرح اس کا طواف کرنے والوں کو چاہیئے کہ دنیا کے کپڑے اتار کر فروتنی اور انکساری اختیار کرے اور عاشقانہ رنگ میں پھر طواف کرے۔طواف عشق الہی کی نشانی ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ گویا مرضات اللہ ہی کے گردطواف کرنا چاہیئے۔اور کوئی غرض باقی نہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 103-102) ممنوعات حج حج کا مانع صرف زادراہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عند اللہ حج نہ کرنے کے لیے عذر صحیح ہیں۔چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہوتا ہے۔اور نیز ان میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا۔(ال عمران: 98) (ایام اصلح۔ر۔خ۔جلد 14 صفحہ 415) ایک حج کے ارادہ کرنے والے کے لیے اگر یہ بات پیش آ جائے۔کہ وہ اس مسیح موعود کو دیکھ لے جس کا تیرہ سو برس سے اہل اسلام میں انتظار ہے۔تو بموجب نص صریح قرآن اور احادیث کے وہ بغیر اس کی اجازت کے حج کو نہیں جاسکتا ہاں باجازت اس کے دوسرے وقت میں جاسکتا ہے۔( تذکرۃ الشہادتین - ر - خ - جلد 20 صفحہ 49) اصل میں جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کی خدمت میں دین سیکھنے کے واسطے جانا بھی ایک طرح کا حج ہی ہے۔حج بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی پابندی ہے اور ہم بھی تو اس کے دین اور اس کے گھر یعنی خانہ کعبہ کی حفاظت کے واسطے آئے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 122)