حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 627 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 627

627 نا مقبول نماز فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ۔الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ۔(الماعون: 6-5) کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ تمھیں تمہیں برس تک برابر نماز پڑھتے ہیں پھر کورے کے کورے ہی رہتے ہیں کوئی اثر روحانیت اور خشوع و خضوع کا ان میں پیدا نہیں ہوتا۔اس کا یہی سبب ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جس پر خدا تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے۔ایسی نمازوں کے لئے ویل آیا ہے۔دیکھو جس کے پاس اعلیٰ درجہ کا جو ہر ہوتو کیا کوڑیوں اور پیسوں کے لئے اسے پھینک دینا چاہیئے۔ہر گز نہیں۔اول اس جوہر کی حفاظت کا اہتمام کرے اور پھر پیسوں کو بھی سنبھالے۔اس لئے نماز کو سنوار سنوار اور سمجھ سمجھ کر پڑھے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 346) قرآن شریف تقوی ہی کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اس کی علت غائی ہے اگر انسان تقوی اختیار نہ کرے تو اس کی نمازیں بھی بے فائدہ اور دوزخ کی کلید ہوسکتی ہیں چنانچہ اس کی طرف اشارہ کر کے سعدی کہتا ہے کلید در دوزخ است ان نماز که در چشم مردم گزاری دراز (ترجمہ:- دوزخ میں داخل ہونے کی چابی ایسی نماز ہے جو لوگوں کو دکھانے کے لئے لمبی لمبی پڑھی جائے ) ( ملفوظات جلد دوم صفحه 391-390) نماز رسم اور عادت کے طور پر درست نہیں خدا کا یہی منشاء ہے کہ لفظی اور زبانی مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنایا جاوے۔یہودی کیا توریت پر ایمان نہیں لاتے تھے؟ قربانیاں نہ کرتے تھے ؟ مگر خدا تعالیٰ نے ان پر لعنت بھیجی اور کہا کہ تم مومن نہیں ہو۔بلکہ بعض نمازیوں کی نماز پر بھی لعنت بھیجی ہے۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ۔(الماعون: 5,6) یعنی لعنت ہے ایسے نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے بے خبر ہیں صلوۃ اصل میں آگ میں پڑنے اور محبت الہی اور خوف الہی کی آگ میں پڑ کر اپنے آپ سے جل جانے اور ماسوی اللہ کو جلا دینے کا نام ہے اور اس حالت کا نام ہے کہ صرف خدا ہی خدا اس کی نظر میں رہ جاوے اور انسان اس حالت تک ترقی کر جاوے کہ خدا کے بلانے سے بولے اور خدا کے چلانے سے چلے۔اس کے کل حرکات اور سکنات اس کا فعل اور ترک فعل سب اللہ ہی کی مرضی کے مطابق ہو جاوےخودی دور ہو جاوے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 590)