حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 628
تیسری فصل 628 روزه يَأَيُّهَا الَّذِينَا مَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔(البقرة : 184) جو تم میں سے مریض یا سفر پر ہو وہ اتنے روزے اور رکھ لے۔(شہادت القرآن۔ر-خ- جلد 6 صفحہ 331) روزہ فرض ہے تلقین روز و كُتب سے فرضی روزے مراد ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 147) میری تو یہ حالت ہے کہ مرنے کے قریب ہو جاؤں تب روزہ چھوڑتا ہوں طبیعت روزہ چھوڑنے کو نہیں چاہتی یہ مبارک دن ہیں اور اللہ کے فضل و رحمت کے نزول کے دن ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 440-439) روزہ کی حکمت تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔روزہ اتناہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قو تیں بڑھتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا منشاء اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کوکم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ہمیشہ روزہ دار کو یہ مد نظر رکھنا چاہیئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کے لیے تسلی اور سیری کا باعث ہے۔اور جولوگ محض خدا کے لیے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور نبی اور تہلیل میں لگے رہیں۔جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102) روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔روزے کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور روح پر ہے۔نماز سے ایک سوز وگداز پیدا ہوتی ہے۔اس واسطے وہ افضل ہے۔روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں۔مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جو گیوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔لیکن روحانی گدازش جو دعاؤں سے پیدا ہوتی ہے۔اس میں کوئی شامل نہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 293-292)