حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 619
دوسری فصل 619 نماز الم۔ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ۔وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔(البقرة: 5-2) نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یار رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرما دی جائے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا ؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز و نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں گر جانا۔اس سے اپنی حاجات کا مانگتا یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے تو ایسا ہے۔اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلا نا پھر اس سے مانگنا۔پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔حقیقت میں جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے وہ ایمان کو چھوڑتا ہے اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آ جاتا ہے۔اس طرف سے فرق آیا تو معاً اس طرف سے بھی فرق آ جاتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 236-235) انسان کی خداترسی کا اندازہ کرنے کے لیے اس کے التزام نماز کو دیکھنا کافی ہے کہ کس قدر ہے اور مجھے یقین ہے کہ جو شخص پورے پورے اہتمام سے نماز ادا کرتا ہے اور خوف اور بیماری اور فتنہ کی حالتیں اس کو نماز سے روک نہیں سکتیں وہ بیشک خدائے تعالی پر ایک سچا ایمان رکھتا ہے مگر یہ ایمان غریبوں کو دیا گیا دولتمند اس نعمت کو پانے (ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 540) والے بہت ہی تھوڑے ہیں۔صلوۃ کے حقیقی معانی ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 188) ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ۔(البقرة: 42) ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوۃ میں اور دعا میں کیا فرق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے الصلوةُ هِيَ الدُّعَاءِ۔اَلصَّلَوةُ مُخُ الْعِبَادَةِ یعنی نماز ہی دعا ہے۔نماز عبادت کا مغز ہے۔