حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 601 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 601

601 رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔(البينة 9) جو جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میسر آئی تھی اور جس نے آپ کی قوت قدسی سے اثر پایا تھا اس کے لئے قرآن شریف میں آیا ہے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (البيئة: 9) اس کا سبب کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کا نتیجہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وجوہ فضیلت میں سے یہ بھی ایک وجہ ہے کہ آپ نے ایسی اعلیٰ درجہ کی جماعت تیار کی۔میرا دعوی ہے کہ ایسی جماعت آدم سے لیکر آخر تک کسی کو نہیں ملی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 592-591) أُولئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُد هُمُ اقْتَدِهُ قُلْ لَّا أَسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَلَمِينَ۔(الانعام: 91) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے نام اپنے اندر جمع رکھتے ہیں کیونکہ وہ وجود پاک جامع کمالات متفرقہ ہے پس وہ موسیٰ بھی ہے اور عیسیٰ بھی اور آدم بھی اور ابراہیم بھی اور یوسف بھی اور یعقوب بھی۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے فَبِهُداهُمُ اقْتَدِه یعنی اے رسول اللہ تو ان تمام ہدایات متفرقہ کو اپنے وجود میں جمع کر لے۔جو ہر یک نبی خاص طور پر اپنے ساتھ رکھتا تھا۔پس اس سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء کی شانیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں شامل تھیں اور در حقیقت محمد کا نام صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ محمد کے یہ معنے ہیں کہ بغایت تعریف کیا گیا اور غایت درجہ کی تعریف تبھی متصور ہوسکتی ہے کہ جب انبیاء کے تمام کمالات متفرقہ اور صفات خاصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہوں۔آئینہ کمالات اسلام - ر-خ- جلد 5 صفحہ 343) مَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ۔(الانبياء: 108) مَا اَرْسَلْنكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتا ہے کہ جب آپ ہر ایک قسم کے خلق سے ہدایت کو پیش کرتے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ نے اخلاق، صبر نرمی اور نیز مار ہر ایک طرح سے اصلاح کے کام کو پورا کیا اور لوگوں کو خدا کی طرف توجہ دلائی۔مال دینے میں نرمی برتنے میں عقلی دلائل اور معجزات کے پیش کرنے میں آپ نے کوئی فرق نہیں رکھا۔اصلاح کا ایک طریق مار بھی ہوتا ہے کہ جیسے ماں ایک وقت بچہ کو مار سے ڈراتی ہے وہ بھی آپ نے برت لیا تو مار بھی ایک خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ جو آدمی اور کسی طریق سے نہیں سمجھتے خدا ان کو اس طریق سے سمجھاتا ہے کہ وہ نجات پاویں۔خدا تعالیٰ نے چار صفات جو مقرر کی ہیں جو کہ سورۃ فاتحہ کے شروع میں ہیں رسول اللہ صلعم نے ان چاروں سے کام لے کر تبلیغ کی ہے مثلاً پہلے رب العالمین یعنی عام ربوبیت ہے تو آیت مَا اَرْسَلْنكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ اسکی طرف اشارہ کرتی ہے۔پھر ایک جلوہ رحمانیت کا بھی ہے کہ آپ کے فیضان کا بدل نہیں ہے۔ایسی ہی دوسری صفات۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 380)