حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 583
583 يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتب (الرعد:40) اللہ تعالیٰ کی شناخت کی یہ زبردست دلیل اور اس کی ہستی پر بڑی بھاری شہادت ہے کہ محوداثبات اس کے ہاتھ میں ہے۔يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُ۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 150) ہمارا تو اعتقاد ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔وہ عمر کو کم بھی کر سکتا ہے اور زیادہ بھی کر سکتا ہے۔يَمْحُوا الله مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ۔۔۔عیسائیوں کا بھی یہی اعتقاد ہے ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک شخص کی پندرہ دن کی عمر باقی رہ گئی تھی دعا سے پندرہ سال ہو گئے۔وَ أَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهى۔(النجم:43) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 117) تمام سلسلہ عمل و معلولات کا تیرے رب پر ختم ہو جاتا ہے۔تفصیل اس دلیل کی یہ ہے کہ نظر تعمیق سے معلوم ہوگا کہ یہ تمام موجودات علل و معلول کے سلسلہ سے مربوط ہے اور اسی وجہ سے دنیا میں طرح طرح کے علوم پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ کوئی حصہ مخلوقات کا نظام سے باہر نہیں۔بعض بعض کے لئے بطور اصول اور بعض بطور فروع کے ہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ علت یا تو خود اپنی ذات سے قائم ہوگی یا اس کا وجود کسی دوسری علت کے وجود پر مخصر ہوگا اور پھر یہ دوسری علت کسی اور علت پر و على هذا القیاس۔اور یہ تو جائز نہیں کہ اس محدود دنیا میں علل و معلول کا سلسلہ کہیں جا کرختم نہ ہواور غیر متاہی ہوتو بالضرورت مانا پڑا کہ یہ سلسلہ ضرور کی اخیر علت پر جا کر تم ہو جاتا ہے۔پس جس پر اس تمام کی انتہاء ہے وہی خدا ہے آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ آیت وَ أَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنتَھی اپنے مختصر لفظوں میں کس طرح اس دلیل مذکورہ بالا کو بیان فرمارہی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ انتہاء تمام سلسلہ کی تیرے رب تک ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی - ر- خ - جلد 10 صفحہ 369) دعا کو سننے کے اعتبار سے ا فَلَا يَرَوْنَ إِلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَّلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۔(طه: 90) قرآن شریف میں ایک مقام پر ان لوگوں کے لئے جو گوسالہ پرستی کرتے ہیں اور گوسالہ کو خدا بناتے ہیں آیا ہے الَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمُ قَوْلًا کہ وہ ان کی بات کا کوئی جواب ان کو نہیں دیتا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو خدا بولتے نہیں ہیں وہ گوسالہ ہی ہیں۔ہم نے عیسائیوں سے بار ہا پوچھا ہے کہ اگر تمہارا خدا ایسا ہی ہے جو دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کے جواب دیتا ہے تو بتاؤ وہ کس سے بولتا ہے؟ تم جو یسوع کو خدا کہتے ہو پھر اس کو بلا کر دکھاؤ۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ سارے عیسائی اکٹھے ہو کر بھی یسوع کو پکاریں وہ یقیناً کوئی جواب نہ دے گا کیونکہ وہ مر گیا۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 148) مجیب اور ناطق خدا ہمارا ہی ہے جو ہماری دعاؤں کو سنتا اور ان کے جواب دیتا ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ جو خدا پیش کرتے ہیں وہ الَّا يَرْجِعُ اِلَيْهِمُ قَوْلًا کا مصداق ہو رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بوجہ ان کے کفر اور بے دینی کے ان کی دعائیں مَادُعَاءُ الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ (الرعد :15) کی مصداق ہوگئی ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ تو سب کا ایک ہی ہے مگر ان لوگوں نے اس کی صفات کو سمجھا ہی نہیں ہے۔پس یا درکھو کہ ہمارا خدا ناطق خدا ہے وہ ہماری دعائیں سنتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 710)