حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 577 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 577

577 ام الصفات باری تعالیٰ خدا تعالی کی چار اعلیٰ درجہ کی صفتیں ہیں جو ام الصفات ہیں اور ہر ایک صفت ہماری بشریت سے ایک امر مانگتی ہے اور وہ چار صفتیں یہ ہیں :۔ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت۔مالکیت یوم الدین۔( 1 ) ربوبیت اپنے فیضان کے لیے عدم محض یا مشابہ بالعدم کو چاہتی ہے اور تمام انواع مخلوق کی جاندار ہوں یا غیر جاندار اسی سے پیرا یہ وجود پہنتے ہیں۔(2) رحمانیت اپنے فیضان کے لیے صرف عدم کو ہی چاہتی ہے۔یعنی اس عدم محض کو جس کے وقت میں وجود کا کوئی اثر اور ظہور نہ ہواور صرف جانداروں سے تعلق رکھتی ہے اور چیزوں سے نہیں۔(3) رحیمیت اپنے فیضان کے لئے موجود ذوالعقل کے منہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔(4) مالکیت یوم الدین اپنے فیضان کے لیے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے اور صرف ان انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کے لیے دامن افلاس پھیلاتے ہیں۔اور سچ مچ اپنے تئیں تہی دست پا کر خدا تعالیٰ کی مالکیت پر ایمان لاتے ہیں۔یہ چارا ہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحیمیت کی صفت ہے وہ دعا کی تحریک کرتی ہے اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کر کے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالی مالک جزا ہے۔کسی کا حق نہیں جو دعویٰ سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور ایام اسح - رخ- جلد 14 صفحہ 243-242) نجات محض فضل پر ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات تشبیہی اور تنزیہی قرآن شریف اسی وجہ سے ہر ایک دھوکہ دہی کی بات سے محفوظ ہے کہ اس نے خدا تعالیٰ کے ایسے طور سے صفات بیان کئے ہیں جن سے توحید باری تعالیٰ شرک کی آلائش سے بکلی پاک رہتی ہے کیونکہ اول اس نے خدا تعالیٰ کے وہ صفات بیان کیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کیونکر وہ انسان سے قریب ہے اور کیونکر اسکے اخلاق سے انسان حصہ لیتا ہے ان صفات کا نام تو شیبہی صفات ہیں۔پھر چونکہ شیہی صفات سے یا اندیشہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو محد و خیال نہ کیا جائے یا مخلوق چیزوں سے مشابہ خیال نہ کیا جائے اس لئے ان اوہام کے دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی ایک دوسری صفت بیان کر دی یعنی عرش پر قرار پکڑنے کی صفت جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا سب مصنوعات سے برتر و اعلیٰ مقام پر ہے کوئی چیز اس کی شبیہ اور شریک نہیں اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کی توحید کامل طور پر ثابت ہوگئی۔(چشمہ معرفت - ر-خ- جلد 23 صفحہ 122-121 ) فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الأَمْثَالَ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔(النحل: 75) : قرآن شریف فرماتا ہے کہ خداد یکھتا۔سنتا۔جانتا۔بولتا۔کلام کرتا ہے اور پھر مخلوق کی مشابہت سے بچانے کے لئے یہ بھی فرماتا ہے۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ (الشورى: 12) فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔اس کے لئے مخلوق سے مثالیں مت دو۔سوخدا کی ذات کو تشبیہ اور تنزیہ کے بین بین رکھنا یہی وسط ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 377-376)