حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 555
555 عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مردوں کی تابعدار ر ہیں۔ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں۔اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا۔تو میں حکم کرتا۔کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بد زبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے۔اور حکم ربانی سن کر پھر بھی باز نہیں آتی۔تو وہ لعنتی ہے۔خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔عورتوں کو چاہیئے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چرا دیں۔اور نامحرم سے اپنے تئیں بچائیں۔اور یا درکھنا چاہیئے۔کہ بغیر خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں۔ان سے پردہ کرنا ضروری ہے جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔عورتوں پر یہ بھی لازم ہے۔کہ بدکار اور بد وضع عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں۔اور ان کو اپنی خدمت میں نہ رکھیں۔کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے۔کہ بدکار عورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 69-68) بعض وقت عورت گوولی ہو اور بڑی عابد اور پر ہیز گار اور پاکدامن ہو اور اس کو طلاق دینے میں خاوند کو بھی رحم آتا ہو بلکہ وہ روتا بھی ہومگر پھر بھی چونکہ اس کی طرف سے کراہت ہوتی ہے اس لیے وہ طلاق دے سکتا ہے۔مزاجوں کا آپس میں موافق نہ ہونا یہ بھی ایک شرعی امر ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 276) اگر کوئی عورت اذیت اور مصیبت کا باعث ہو تو ہم کو کیونکر یہ خیال کرنا چاہیے کہ خدا ہم سے ایسی عورت کے طلاق دینے سے ناخوش ہو گا۔میں دل کی سختی کو اس شخص سے منسوب کرتا ہوں جو اس عورت کو اپنے پاس رہنے دے نہ اس شخص سے جو اس کو ایسی صورتوں میں اپنے گھر سے نکال دے ناموافقت سے عورت کو رکھنا ایسی سختی ہے جس میں طلاق سے زیادہ بیرحمی ہے۔طلاق سے پر ہیز کرو آریہ دھرم - ر - خ - جلد 10 صفحہ 53 حاشیہ) روحانی اور جسمانی پور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لیے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کر و کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 75 حاشیہ) الطَّلَاقُ مَرَّتَنِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ اَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَان۔۔۔۔۔۔الاية (البقره:230) طلاق ایک وقت میں کامل نہیں ہو سکتی طلاق میں تین طہر ہونے ضروری ہیں فقہا نے ایک ہی مرتبہ تین طلاق دے دینی جائز رکھی ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ رعایت بھی ہے کہ عدت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کر سکتی ہے۔قرآن کریم کی رو سے جب تین طلاق دے دی جاویں تو پہلا خاوند اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کسی اور کے نکاح میں آوے اور پھر وہ دوسرا خاوند بلا عمداً اسے طلاق دے دیوے اگر وہ عمداً اسی لیے طلاق دے گا کہ اپنے پہلے خاوند سے وہ پھر نکاح کر لیوے تو یہ حرام ہوگا کیونکہ اسی کا نام حلالہ ہے جو کہ حرام ہے فقہا نے جو ایک دم کی تین طلاقوں کو جائز رکھا ہے اور پھر عدت کے گزرنے کے بعد اسی خاوند سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اول اسے شرعی طریق سے طلاق نہیں دی۔