حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 547
547 خدا کی ناراضگی ان پر ہوتی ہے جن پر فضل وعنا وعنایات ہوں اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ ہمیشہ اس کا عتاب ان لوگوں پر ہوتا ہے جن پر اس کے فضل اور عطایات بے شمار ہوں اور جنہیں وہ اپنے نشانات دکھا چکا ہوتا ہے۔وہ ان لوگوں کی طرف بھی متوجہ نہیں ہوتا کہ انہیں عتاب یا خطاب یا ملامت کرے جن کے خلاف اس کا آخری فیصلہ نافذ ہونا ہوتا ہے چنانچہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے۔فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلُ لَّهُمُ (الاحقاف: 36) اور فرماتا ہے۔وَلَا تَكُنُ كَصَاحِبِ الْحُوتِ۔(القلم 49) یہ حجت آمیز عتاب اس بات پر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت جلد فیصلہ کفار کے حق میں چاہتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سنن کے لحاظ سے بڑے تو قف اور علم کے ساتھ کام کرتا ہے لیکن آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو ایسا کچلا اور پیسا کہ ان کا نام ونشان مٹادیا۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 212 ) خدا کے حضور توبہ وَ مَنْ يَّعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ۔(الزلزال: 9) وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَ يَعْفُوا عَنِ السَّيَاتِ (الشوری: 26) یعنی تمہارا خداوہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی بدیاں ان کو معاف کر دیتا ہے۔کسی کو یہ دھو کہ نہ لگے کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے وَ مَنْ يَّعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ يعنی جو شخص ایک ذرہ بھی شرارت کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔پس یادر ہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تناقض نہیں کیونکہ اس شر سے وہ شتر مراد ہے جس پر انسان اصرار کرے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور توبہ نہ کرے۔اسی غرض سے اس جگہ شتر کا لفظ استعمال کیا ہے نہ ذنب کا۔تا معلوم ہو کہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا ورنہ سارا قرآن شریف اس بارہ میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور توبہ اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے۔چشمه معرفت - ر- خ- جلد 23 صفحہ 24) انبیاء کا استغفار فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ ، إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا۔(النصر:4) چونکہ ان (انبیاء) کی معرفت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مقام کو شناخت کرتے ہیں اس لئے نہایت انکسار اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔نادان جن کو اس مقام کی خبر نہیں ہے وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ یہ ان کی کمال معرفت کا نشان ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَ الْفَتْحُ وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا آیا ہے۔اس میں صاف فرمایا ہے تو استغفار کر۔اس سے کیا مراد ہے۔اس سے یہی مراد ہے کہ تبلیغ کا جو عظیم الشان کام تیرے سپرد تا دقائق تبلیغکا پورا پور علم تواللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس لئے اگر اس میں کوئی کمی رہی ہو تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے۔یہ استغفار تو نبیوں اور راست بازوں کی جاں بخش اور عزیز بخش چیز ہے۔اب اس پر نادان اور کوتاہ اندیش اعتراض کرتے ہیں۔جہاں استغفار کا لفظ انہوں نے سن لیا جھٹ اعتراض کر دیا حالانکہ اپنے گھر میں دیکھیں تو مسیح کہتا ہے مجھے نیک مت کہہ۔اس کی تاویل عیسائی یہ کرتے ہیں کہ مسیح کا منشاء یہ تھا کہ مجھے خدا