حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 543
543 عالم برزخ وَازْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ۔وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَوِينَ۔(الشعراء :92-91) اس درجہ سے اوپر جوا بھی ہم نے بہشتیوں اور دوزخیوں کے لئے بیان کیا ہے ایک اور درجہ دخول جنت دخول جہنم ہے جس کو درمیانی درجہ کہنا چاہیئے اور وہ حشر اجساد کے بعد اور جنت عظمی یا جہنم کبری میں داخل ہونے سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور بوجہ تعلق جسد کامل قوای میں ایک اعلی درجہ کی تیزی پیدا ہوکر اورخدا تعالیٰ کی تجلی رحم یا جی قبر کا حسب حالت اپنے کامل طور پر مشاہدہ ہو کر اور جنت عظمی کو بہت قریب پا کر یا جہنم کماری کو بہت ہی قریب دیکھ کر وہ لذات یا عقوبات ترقی پذیر ہو جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ آپ فرماتا ہے۔وَأُخْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ۔وَ بُرِزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَوِينَ۔(الشعرا : 91,92) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ صَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ وَ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۔(عبس : 43-39) اس دوسرے درجہ میں بھی لوگ مساوی نہیں ہوتے بلکہ اعلیٰ درجہ کے بھی ہوتے ہیں جو بہشتی ہونے کی حالت میں بہشتی انوارا اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ایسا ہی دوزخی ہونے کی حالت میں اعلیٰ درجہ کے کفار ہوتے ہیں کہ قبل اس کے جو کامل طور پر دوزخ میں پڑیں ان کے دلوں پر دوزخ کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔(ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 284) جہنم دائگی نہیں وَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ كَذَّبُوا بِايْتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ۔(البقرة : 40) ہمارا ایمان یہی ہے کہ دوزخ میں ایک عرصہ تک آدمی رہے گا پھر نکل آئے گا گویا جن کی اصلاح نبوت سے نہیں ہو سکی ان کی اصلاح دوزخ کریگا۔حدیث میں آیا ہے۔يَأْتِی عَلى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ - یعنی دوزخ پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں کوئی متنفس نہیں ہو گا اور نسیم صبا اس کے دروازوں کو کھٹکھٹائے گی۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 309) رحمت باری عام ہے جزا سزا وَاكْتُبُ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَاكُتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَالَّذِينَ هُمُ بِايَتِنَا يُؤْمِنُونَ۔(الاعراف: 157) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمت عام اور وسیع ہے اور غضب یعنی عدل بعد کسی خصوصیت کے پیدا ہوتی ہے یعنی یہ مفت قانون الہی سے تجاوز کرنے کے بعد اپنا حق پیدا کرتی ہے اور اس کے لیے ضرور ہے کہ اول قانون الہی ہو اور قانون الہی کی خلاف ورزی سے گناہ پیدا ہو اور پھر یہ صفت ظہور میں آتی ہے اور اپنا تقاضا پورا کرنا چاہتی ہے۔جنگ مقدس۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 207)