حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 536 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 536

536 معراج ریح مذہب فان المعراج على المذهب الصحيح كان كشفا لطيفا مع اليقظة الروحانية كما لا يخفى على العقل الوهاج و ما صعد الى السماء الا روح سيدنا و نبينا مع جسم نوراني الذي هو غير الجسم العنصري الذي ما خلق من التربة۔و ما كان لجسم ارضى ان يرفع الى السماء۔وعد من الله ذى الجبروت والعزة۔وان كنت في ريب فاقرء الم نجعل الارض كفاتا احياء و امواتا (المرسلات: 26/27) (الهدى۔ر۔خ۔جلد 18 صفحه 364) (ترجمہ از مرتب ) معراج کے بارے میں صحیح مذہب یہ ہے کہ وہ ایک لطیف کشف تھا جو روحانی بیداری کی حالت میں ہوا جیسا کہ روشن عقل کے لئے واضح ہے اور آسمان کی طرف صرف ہمارے آقا اور نبی صلم کی روح نورانی جسم کے ساتھ صعود فرما ہوئی تھی۔نورانی جسم وہ ہے جو مادی جسم کے علاوہ ہے جو مٹی سے پیدا نہیں ہوا اور مادی اور جسمانی جسم کے لئے روا نہیں کہ اسے آسمان کی طرف اٹھایا جائے۔یہ خدائے قادر وعزیز کا وعدہ ہے اور اگر تمہیں اس بارے میں شک ہو تو آیت کریمہ الم نجعل الارض كفاتا احیاء و امواتا کو پڑھو۔انسان کے جسم دو ہیں ایک زمینی اور دوسرا آسمانی جسم ہے۔زمینی جسم کے متعلق قرآن شریف میں آیا ہے۔الـمُ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا (المرسلت : 26 - پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج جس جسم کے ساتھ ہو اوہ آسمانی جسم تھا۔معراج روحانی بیداری میں ہوا ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 342) وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءُ يَا الَّتِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةٌ لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآن وَ نُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُ هُمُ إِلَّا طُغْيَانًا بيرًا۔(بنی اسرائیل: 61) بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ الباری ہے تمام معراج کا ذکر کر کے اخیر میں فاستيقظ لکھا ہے اب تم خود سمجھ لو کہ وہ کیا تھا۔قرآن مجید میں بھی اس کے لئے رویا کا لفظ ہے وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي اَرَيْنكَ۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 634) معراج ہوئی تھی مگر یہ فانی بیداری اور فانی اشیاء کے ساتھ نہ تھی بلکہ وہ اور رنگ تھا۔جبرئیل بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا اور نیچے اترتا تھا۔جس رنگ میں اس کا اتر نا تھا اسی رنگ میں آنحضرت کا چڑھنا ہوا تھا۔نہ اتر نے والا کسی کو ا تر تا نظر آتا تھا اور نہ چڑھنے والا کوئی چڑھتا ہوا دیکھ سکتا تھا۔حدیث شریف میں جو بخاری میں آیا ہے کہ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ یعنی پھر جاگ اُٹھے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 526)