حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 500 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 500

500 وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔(الانفال: 62) اور اگر مخالف صلح کے واسطے جھکیں تو تم بھی جھک جاو اور خدا پر توکل کرو۔(براہین احمدیہ - رخ - جلد 21 صفحہ 421) اب ظاہر ہے کہ قرآن شریف یہی بیان کرتا ہے کہ مسلمانوں کو لڑائی کا اس وقت حکم دیا گیا تھا جب وہ ناحق قتل کئے جاتے تھے اور خدا تعالے کی نظر میں مظلوم ٹھہر چکے تھے اور ایسی حالت میں دو صورتیں تھیں یا تو خدا کافروں کی تلوار سے ان کو فنا کر دیتا اور یا مقابلہ کی اجازت دیتا اور وہ بھی اس شرط سے کہ آپ ان کی مدد کرتا کیونکہ ان میں جنگ کی طاقت ہی نہیں تھی اور پھر ایک اور آیت ہے جس میں خدا نے اس اجازت کے ساتھ ایک اور قید بھی لگا دی ہے اور وہ آیت سے پارہ دوم سورۃ البقرۃ میں ہے اور اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ جو لوگ تمہیں قتل کر نیکے لئے آتے ہیں ان کا دفع شر کے لئے مقابلہ تو کرو مگر کچھ زیادتی نہ کرو اور وہ آیت یہ ہے:۔وقاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلولكم ولا تعتدوا ان الله لا يحب المعتدين (البقره: (191) یعنی خدا کی راہ میں ان لوگوں کے ساتھ لڑو جو لڑنے میں سبقت کرتے ہیں اور تم پر چڑھ چڑھ کے آتے ہیں مگر ان پر زیادتی نہ کرو اور تحقیق یا درکھو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔(پیغام صلح - ر-خ- جلد 23 صفحہ 392) جہاد با السیف اور حضرت اقدس کی تعلیم فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَ إِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا۔۔۔۔( محمد : 5) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گز کسی پر تلوار نہیں اٹھائی بجز ان لوگوں کے جنہوں نے پہلے تلوار اٹھائی۔اور سخت بیرحمی سے بے گناہ اور پر ہیز گار مردوں اور عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔اور ایسے دردانگیز طریقوں سے مارا کہ اب بھی ان قصوں کو پڑھ کر رونا آتا ہے۔دوسرے یہ کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ اسلام میں ایسا ہی جہاد تھا جیسا کہ ان مولویوں کا خیال ہے۔تا ہم اس زمانہ میں وہ حکم قائم نہیں رہا کیونکہ لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائیگا توسیفی جہاد اور مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائیگا۔کیونکہ مسیح نہ تلوار اٹھائیگا اور نہ کوئی اور زمینی ہتھیار ہاتھ میں پکڑے گا بلکہ اس کی دعا اس کا حربہ ہو گا۔اور اس کی عقد ہمت اس کی تلوار ہوگی۔وہ صلح کی بنیاد ڈالیگا اور بکری اور شیر کو ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے کریگا۔اور اس کا زمانہ صلح اور نرمی اور انسانی ہمدردی کا زمانہ ہوگا۔ہائے افسوس! کیوں یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کلمہ یضح الحرب جاری ہو چکا ہے۔جس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود جب آئیگا تو لڑائیوں کا خاتمہ کر دیگا۔اور اسی کی طرف اشارہ اس قرآنی آیت کا ہے